Aey Imam e Zamaa ab to aa jayey
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

اے امامِ زماں اب تو  آ جائیے
سب کے حاجت روا اب تو  آ جائیے

آنکھ  پر نم ہے اور دل پریشان ہے  
غم کے ماروں کی دنیا بھی ویران ہے 
نوری دیدار اب تو کرا جائیے 

آپ کا ذکر رہتا ہے شام و سحر
آپ کو ڈھونڈتی ہے ہماری نظر
پردہ ءِ غیب اب تو ہٹا جائیے 

آپ ضامن ہیں بعدِ خدا مہرباں 
منتظر ہے زمیں منتظر آسماں
اب امامت کے جلوے دکھا جائیے

راہ تکتی ہے ہر اک نگاہِ بشر 
ظلم کرتے ہیں حد سے سِوا اہلِ شر
عدل و انصافِ یزداں دکھا جائیے

آنسوؤں سے عریضے لکھاتے ہیں ہم
غم کی حالت میں خوشیاں مناتے ہیں ہم
سب غموں کو ہمارے مِٹا جائیے

مولا عرفان ہم کو عطا کیجئے
آپ جیسا بھی چاہیں بنا دیجئے
قلبِ رضوان و قیصر  جِلا جائیے