Sifaat e Khaliq e Akbar dikha rahay hain Hussain
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

فقط ارادے سے فِطرُس کو بال و پَر دے کر
صفاتِ خالقِ اکبر دکھا رہے ہیں حسین

لکھا لوں قیدِ مسلسل غلامیءِ سرورؑ
کہ آج سب کا مقدّر بنا رہے ہیں حسینؑ

دعائے سیدہ زہرا کا مِل گیا ہے ثمر
اٹھا کے ہاتھوں پہ غازی دکھا رہے ہیں حسینؑ

کسی کو اور نہ مل پایا ایسا عز و شرف
حبیب خط تمہیں لکھ کر بُلا رہے ہیں حسینؑ

بھنور میں پھنس گئی کشتیءِ دینِ یزدانی
لہو میں ڈوب کے اُس کو  بچا رہے ہیں حسینؑ

نجات لکھ کے مُقدّر میں اپنے ہاتھوں سے
رُمال ماتھے پہ حُرؑ کے سجا رہے ہیں حسینؑ

مقامِ خلد دکھانے کو صبحِ عاشورہ
فلک کے سارے ہی پردے ہٹا رہے ہیں حسینؑ
  
ہے کیسے کاٹتی خنجر کی دھار کو شہ رگ
یہ معجزہ سرِ سجدہ دکھا رہے ہیں حسینؑ

مجال کس کی تھی گر  اذنِ حق نہ آ جاتا
رضائے رب میں گلے کو کٹا رہے ہیں حسینؑ

ثبوت مل گیا ہم کو شھید زندہ ہے
سِناں کی نوک پہ قرآں سنا رہے ہیں حسینؑ
 
میں اپنا خون بہاؤں یا پھر کروں ماتم
میں کیا کروں کہ مجھے یاد آ رہے ہیں حسینؑ

ہر ایک لفظ قصیدے کا خود عطا کر کے
کلام سننے کو رضوان  آ رہے ہیں حسینؑ