Shamma zindan mai manga dy koi
Efforts: Sabika Karbalai



شاعر اہلیبیت ع:حسنین اکبر
جارہی ہے حسین(ع)کی بیٹی    ×2    آخری رات ہے سکینہ (ع)کی
شمع زندان میں منگا دے کوئی آخری رات ہے سکینہ(ع) کی

یہ جو گردن پہ ہے رسن کا نشان، ساتھ تربت میں اسکی جائیگا
کوئی ام رباب(ع)سے کہہ دے،اب یہ چہرہ نظر نہ آئیگا
۔آج جی بھر کے دیکھ لو بیبی   ×2 ،
آخری رات ہے سکینہ(ع)کی 

شمع زندان میں منگا دے کوئی آخری رات ہے سکینہ(ع) کی   

پاس بابا کے جانے والی ہے،اب طمانچے نہ کوئی مارے گا
قبر میں تو غموں کی ماری کے، کوئی گوہر نہیں اتارے گا
جا کے تربت میں چین پائے گی ×2 ،آخری رات ہے سکینہ(ع) کی

شمع زندان میں منگا دے کوئی آخری رات ہے سکینہ(ع) کی   

ہے جناب امیر(ع) کی پوتی، انتہا اس پہ ہے غریبی کی 
عالم نزع ہوگیا طاری، سانس رکنے لگی ہے بچی کی 
ریسما اب تو کھول دو اسکی  ×2، آخری رات ہے سکینہ (ع) کی

شمع زندان میں منگا دے کوئی آخری رات ہے سکینہ(ع) کی   

رونے والی کی چلتی سانسوں کو، آج اسطرح روکا جاتا ہے
بند ہوجائے شور گریہ کا، سر شبیر (ع) لایا جاتا ہے
ہے ملاقات باپ بیٹی کی  ×2، آخری رات ہے سکینہ (ع) کی

شمع زندان میں منگا دے کوئی آخری رات ہے سکینہ(ع) کی   

شور یہ بیڑیوں کا کہتا ہے، کوئی اٹھتا کوئی گرتا ہے
ہے خبر یہ غریب بھائی کو، دم بہن کا نکلنے والا ہے
ابھی لے گی یہ آخری ہچکی   ×2
آخری رات ہے سکینہ(ع) کی

شمع زندان میں منگا دے کوئی آخری رات ہے سکینہ(ع) کی   

روکے سجاد(ع) خود سے کہتے تھے، کیسے میت اٹھاونگا اسکی
قیدزنجیر میں ہیں ہاتھ میرے، قبر کیسے بناونگا اسکی
بے کفن جائیگی بہن میری    ×2
آخری رات ہے سکینہ(ع) کی

شمع زندان میں منگا دے کوئی آخری رات ہے سکینہ(ع) کی   

کیسا منظرتھا قید میں اکبر، چار جانب تھا شور گریہ کا
لا کے سجاد(ع) نے سکینہ(ع) کی، گود میں سر جو رکھا بابا کا
سر شبیر(ع) سے صدا آئی  ×2
آخری رات ہے سکینہ(ع) کی

شمع زندان میں منگا دے کوئی آخری رات ہے سکینہ(ع) کی