| Sar bulandi ki riwayat sar katanay se chali Efforts: Syed-Rizwan Rizvi |
سر بلندی کی روایت سر کٹانے سے چلی نبظ ایماں تیری نبظیں ڈوب جانے سے چلیں نظر کی جاں ہی نہیں سب لخت جاں بھی کر دئے ریت یہ تجھ سے چلی تیرے گھرانے سے چلی تو نے معنی ہی بدل ڈالے سکست و فتح کے رسم ہستی اپنی ہستی کو مٹانے سے چلی گھر سے تجھ کو کربلا کی سمت جاتا دیکھ کر ابر اٹھاصحرا سے بجلی آشیانے سے چلی آنے والا لمحہ لمحہ تیری بیعت کر چکا بات تیری از سر نوہر زمانے سے چلی میں محمدؐ کاغلام آل محمدؐ کا غلام اپنی ہر تصویر اسی آئینہ خانے سے چلی |