Woh ba kamal hay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

یــا امّ ابـیــھـا، یــا امّ فــقــیـھـا
یا اشرف النساء یا فاطمہ زہرا
یــا زہــرا یــا زہــرا یــا زہــرا

وہ باکـــمــال ہے وہ بے مـثـــال ہے
جو پھول فاطمہ کا ہے وہ لازوال ہے
اول نـا مـحـمـدۖ ، اوســط نـا مـحـمـد
آخـــر نــا مـحـمـد ، کــل نــا مـحـمـدۖ

پالے ہیں خون سے ابوطالب نے چند پھول
ایک ان میں ہے امام تو ہے دوسرا رسول
ایک اصل دین دوسرا ہے دین کا اصول
جو ان کا ہے خیال خدا کا خیال ہے

اول امام علی ہے امامت کا تاجدار
عمران کے چمن میں جو لایا نئ بہار
جس کو عطا کی خالق اکبر نے ذوالفقار
جس کا وجود دین محمدۖ کی ڈھال ہے

بعد علی حسن ہے رسالت کا آئینہ
توڑا ہے جس نے تخت و حکومت کا آئينہ
ہے ہو بہو رسولۖ کی سیرت کا آئينہ
کاٹا قلم سے جس نے برائ کا جال ہے

پیدا ہوۓ حسین علیہ سلام جب
جبرئیل در پہ آۓ سلامی کو باآدب
بولے پیام دیتا ہے دونوں جہاں کا رب
ہم کو پسند دل سے یہ زہرا کا لال ہے

اک پھول فاطمہ کا عبادت کا زیب و زین
زین العباء وہ عابد و ساجد دل حسین
سجدے کو جس کے پیار کرے رب مشرقین
خطبوں میں جس کے تمکنتہ ذوالجلال ہے

باقر بھی ایک پھول ہے صحن بتول کا
جس کی رگوں میں خون علی اور رسولۖ کا
مشکل کشاء جہاں میں وہ ہر دل ملول کا
نسل ابوجہل کا اسی سے قتال ہے

اک صادق الخیال ہے وہ صادق الوجود
جعفر ہے جعفری کے شجر کی ہے وہ نمود
مقبول بارگاہ خدا جس کے ہیں سجود
اس کی فقر کے تابع محمدۖ کی آل ہے

اک لال ان کا موسی کاظم فلک اساس
جس کے بدن پہ جد کی شریعت کا ہے لباس
علم نبیۖ کی ساری فضا اس کے آس پاس
جد کی طرح سے دین نبیۖ کی وہ ڈھال ہے

مشہد میں ایک لال کا دارالشفاء بھی ہے
رب کی رضا ہے اس کی رضا وہ رضا بھی ہے
اس در سے جس نے مانگا ہے جو کچھ ملا بھی ہے
روضے سے جس کے ہوتا نہیں رد سوال ہے

تـقـوی میں ایک پھول تـقــّی تاحد خیال
لاریب وہ زمانے میں بے مثل و بے مثال
خوش فکر و خوش مزاج و خوش بخت بے مثال
اجداد کی کتاب کا حرف کمال ہے

اب ہے نقیب حق کو صداقت نـقــّی کی بات
یہ بات ہے نبیۖ کی یہی ہے علی کی بات
برج دہم میں آ ہی گئ روشنی کی بات
اس کے عمل سے کفر کے شیشے ميں بال ہے

عسکر مزاج لشکر ایماں کا لشکری
قامت میں مصطفیۖ ہے جو سیرت ميں ہے علی
اس کے پسر کے دم سے قیامت رکی ہوئ
خاموشیوں میں جس کی بلا کا جلال ہے

تعظیم کا ہے وقت اب آیا ہے اس کا نام
قائم ہے جس کے دم سے زمانے کا کل نظام
نام آۓ جس کا لب پہ تو واجب ہوا سلام
اب قاتل حسین کا بچنا محال ہے

ریحان وصف آل محمدۖ بیان ہو
مدحت سرائ کے لیے ایک نوحہ خوان ہو
سرور کا جو ندیم ہو اہل زبان ہو
اس ذکر کی اساس میں رب کا جمال ہے

وہ باکـــمــال ہے وہ بے مـثـــال ہے
جو پھول فاطمہ کا ہے وہ لازوال ہے
اول نـا مـحـمـدۖ ، اوســط نـا مـحـمـد
آخـــر نــا مـحـمـد ، کــل نــا مـحـمـدۖ