میں کافر ہوں میں کافر ہوں
ابوجہلوں کا دشمن ہوں ابوطالبؑ کا ذاکر ہوں
نبیؐ سے عشق کرتا ہوں علیؑ سے پیار رکھتا ہوں
نبی زادیؑ کے دشمن سے ازل سے خار رکھتا ہوں
ابوزرؑ جس پہ چلتے تھے اسی رہ کا مسافر ہوں
میں کافر ہوں میں کافر ہوں
مجھے تم سے مسلماں ہونے کا فطوہ نہیں درکار
سنبھالو اپنی یہ پگڑی سنبھالو اپنی یہ دستار
صند میری مسلماں ہونے کی کہہ کر میں کافر ہوں
میں کافر ہوں میں کافر ہوں
میرا منصب غلامی ہے درِآلِ محمدﷺ کی
اسی دہلیز پر تو عمر گزری ہے ابو جد کی
کوئی پل ہو کوئی لمحہ ہو میں در پہ حاضر ہوں
میں کافر ہوں میں کافر ہوں
ہو کچھ بھی غیر کی دستک پہ میرا در نہیں کھلتا
علیؑ سے بغض جو رکھتا ہے میں اُس پر نہیں کھلتا
علیؑ کا چاہنے والا ہے جو اُس پر میں زاہر ہوں
میں کافر ہوں میں کافر ہوں
میں عاشق ہوں علیؑ کا میرے چہرے سے جھلکتا ہے
زمانہ مجھ سے جلتا تھا زمانہ مجھ سے جلتا ہے
باباطن بھی وہی ہوں میں جو کچھ بھی میں باظاہر ہوں
میں کافر ہوں میں کافر ہوں
علیؑ کا نام لکھ کر خاک کو اکثیر کرتا ہوں
گزرتے وقت کو اِس نام سے زنجیر کرتاہوں
علیؑ کا نام لے کر کچھ بھی کر سکنے پہ قادر ہوں
میں کافر ہوں میں کافر ہوں