ہائے شام کا بازار اور عابدِ بیمارؑ
تاریخ میں گر شام کا بازار نہ ہوتا
شبیرؑ کا بیٹا کبھی بیمار نہ ہوتا
سجادؑ کو بے موت یہ غم مار گیا ہے
بے پردہ حرم ساتھ ہیں اور شام چلا ہے
زینبؑ نہ تماشہ بنے دیکھیں مجھے سب لوگ
یہ سوچ کے سر غازیؑ کا نیزے سے گرا ہے
زینبؑ کو کوئی دیکھ نہ پائے اِسی خاطر
نیزے پہ سرِ سبطِ نبیؑ بول رہا ہے
اے شمرِ لعیں کس پہ تو برساتا ہے کوڑے
عابدؑ تو بڑی دیر سے بیہوش پڑا ہے
اے شمر سکینہؑ کو نہ تُو مار تمانچے
احساسِ یتیمی کی بڑی سخت سزا ہے
نہ طوق ہے وزنی نہ ہی نقاہت کا سبب ہے
سر سیدِ سجادؑ کا غیرت سے جھکا ہے
فضہؑ کی حمایت میں کھینچی تیغ ہزاروں
زینبؑ کی ہمایت میں بس اِک قیدی کھڑا ہے
پھر شمر نے ناپاک زباں سے یہ بتایا
یہ لیلیٰؑ یہ کلثومؑ یہ زینبؑ بے ردا ہے
فرحان یہ زینبؑ کے مصائب کا اثر ہے
چالیس برس مولا میرا روتا رہا ہے