Zahoor ka waqt aa gaya hay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

ظہور کا وقت آگيا ہے امام سے لو لگاۓ رکھنا
ظہور کا وقت آگيا ہے حرم پہ نظریں جماۓ رکھنا
ظہور کا وقت آگيا ہے چراغ الفت جلاۓ رکھنا

نہ نیند آۓ نہ اونگھ آۓ رکھو ہر ایک پل نظر جماۓ
دل ونظر سے کہ سامرہ سے نہ جانے کس راستے سے آۓ
ظہور کا وقت آگیا ہے ہر ایک رستہ سجاۓ رکھنا

نہ حب دنیا سے کچھ علاقہ نہ غیر سے راہ و رسم رکھنا
تمہاری دولت ہے علم و تقوی کرے گا دجّـال اس پہ حملہ
ظہور کا وقت آگيا ہے تم اپنی پونجی بچاۓ رکھنا

یہی کہیں آس پاس ہوگا وہ آنے والا تھا آچکا ہے
حواری عیسی کے ساتھ ہونگے موالی مولا کے ساتھ ہونگے
ظہور کا وقت آگیا ہے موالیوں سے بناۓ رکھنا

ہے انتقام حسین باقی وہ آنے والا حساب لے گا
عقیدہ اپنا درست رکھنا جو ان کی نصرت کی ہے تمنا
ظہور کا وقت آگیا ہے عمل کو بھی آزماۓ رکھنا

سواۓ چند ایک ظہور کی سب علامتیں پوری ہوچکی ہیں
بصیرت و معرفت تمہاری عدو حق کو کھٹک رہی ہیں
ظہور کا وقت آگيا ہے دل و نظر کو بچاۓ رکھنا

نئے نئے نغمہ ہاۓ الفت جو روز کہہ کہہ کے لا رہے ہو
پڑھے زیارت جو سبط جعفر امام کے در پر آ پڑے ہو
ظہور کا وقت آگیا ہے تم اپنا بستر لگاۓ رکھنا