اے وفا لے کے ہوا گلشنِ فردوس سے چل
آئی نظر مرزوئے شب دیدا كے چنگل سے
اے خرد منزلِ تقدیسِ طہارت ہے سنبھل
اے یقیں تیری عقیدت کا ملے گا تجھے پھل
فکرِ نو عرش تلک کرکے سفر آئی ہے
مولا عباسؑ کی شادی کی خبر آئی ہے
وہ محبت تھی وہ چاہت تھی وہ الفت تھی وہ پیار
یہ فدا بھائیوں پہ بھائی بھی سب اِن پہ نثار
علیؑ اظہارِ خدا ہیں یہ علیؑ کا اظہار
اپنی بہنوں كے لیے بن گئے کلمے کا حصار
چاہا بہنوں نے كہ گھر میں یہ اُجالا دیکھیں
شیر سے بھائی کی پیشانی پہ سہرا دیکھیں
یہ جبیں وہ ہے كہ بندھنے کو ہے جس پر سہرا
چھو كے پیشانی كو ھوگا وہ منور سہرا
جس سے کہلائے گا سورج كے برابر سہرا
گھر میں حیدرؑ كے ہے انوار کا مظہر سہرا
شہرِ یثرب میں جو آثار نظر آتے ہیں
آج یوسفؑ بھی خریدار نظر آتے ہیں
سَر پہ عباسؑ كے شبرؑ نے عمامہ بندھا
یہ عمامہ ہی تھا غازیؑ كے لیے تاجِ وفا
دوشِ عباسؑ پہ شبیرؑ نے تب ڈالی عبا
یہ عبا وہ تھی كہ جو بن گئی بہنوں کی ردا
کیوں نہ وہ ناز کرے جس کو سجائے شبیرؑ
اے خوشا وہ كہ جسے دولہا بنائے شبیرؑ
بن كے جنت كے گلابوں سے جو آیا سہرا
اور حَسِین مادرَِغازیؑ نے بنایا سہرا
شوہرِ حضرتِ زینبؑ نے اٹھایا سہرا
فرقِ عباسؑ پہ شبرؑ نے سجایا سہرا
چاند نے غازیؑ كے سہرے کی بلائیں لے لیں
بڑھ كے سورج نے چمکنے کی ادائیں لے لیں
سہرا غازی كے بندھا عرش تلک بات چلی
غل سویرے کا ہوا سُوئے عدم رات چلی
ایک اک حور لیے ہاتھوں میں سوغات چلی
شیر باراتی بنے شیر کی بارات چلی
نور صدقے كے لیے عرش نے بھجوایا ہے
سجدہ کرنے كے لیے برجِ اسد آیا ہے
ضبط و ایثار كے سُوروں نے سجایا صحرا
آیتیں بنکے وفا نے بھی سنایا صحرا
لوحِ محفوظ سے لکھا ہوا آیا صحرا
لے کے داؤدؑ سے قرآن نے ہے گایا صحرا
جا كے جبریلؑ نے ہر سمت زکاتیں بایٹیں
الک الموت نے اُس روز حیاتیں بانٹیں
تم سمجھتے ہو كہ ماجد نے کہا ہے سہرا
مجھکو جبریلؑ كے ہاتھوں سے ملا ہے سہرا
لوح پر دستِ الٰہی نے لکھا ہے سہرا
لحنِ داؤد جو پایا ہے پڑھا ہے سہرا
وہ جزا پائی نہ اب ڈر کسی وسواس کا ہے
شادماں سہرا بھی تو حضرتِ عباسؑ کا ہے