علیؑ علیؑ كے سوا کیا میری حیات میں ہے
نمازِ عشقِ علیؑ میرے واجبات میں ہے
پلِ صراۃ سے کیسے نہ وہ سبک گزرے
شعور نادِ علیؑ جس کی بات بات میں ہے
حسینؑ آئے تو تُو بھی دیے جلانے لگی
ہوا چراغ بجھانا تیری صفات میں ہے
فدک کی اصل پہ جو شخص ڈالتا ہے نقاب
شریک جرم فدک کی وہ واردات میں ہے
یہ کون کہتا ہے دنیا سے خالی ہاتھ گیا
یہ دیکھو دامنِ شبیرؑ میرے ہاتھ میں ہے
خدا بنا لیے پیدا کئی رسولؑ ہوئے
حسینؑ لاؤ اگر کوئی کائنات میں ہے
صلہ بہشت ہے ریحان اعظمی جس کا
یہ منقبت میری ایسی گزارشات میں ہے