گر ہو میری حیات میرے اختیار میں
صدیاں گزار دون میں تیرے انتظار میں
مولا اب آپ پردہءِ غیبت اُٹھائے
دو دن تو زندگی کے گزاروں بہار میں
اِس وقت گر چہ عدل سے خالی زمین ہے
مظلوم کے مکان میں ظالم مکین ہے
دُنیا ستم شعار ہے مرغوب دین ہے
مولا ضرور آئیں گے مجھکو یقین ہے
آئیگی کچھ کمی نہ میرے اعتبار میں
سب لوگ خواہشات كے اب ہو گئے غلام
اِبْلِیسِیَّت کا دور ہے بے پردگی ہے عام
پینے لگے لہو ہیں تو کھانے لگے حرام
کہتا ہے دِل کہ بس ابھی آ جائیے امامؑ
گر دیر ہے مشیتِ پروردگار میں
مشکل كے وقت ہم نے پکارا ہے یا حسینؑ
غیبت کے امتحاں میں سہارا ہے یا حسینؑ
قرآن و اہلبیت کا پارہ ہے یا حسینؑ
حق نے ہمارے دِل پہ اتارا ہے یا حسینؑ
رہ کر دعائے بنتِ نبیؑ کے حصار میں
اِس دورِ پر خطر میں ہیں دشوار منزلیں
مولا اِس امتحان میں دِل کو سکوں ملے
روزہ نماز و حج کے مناسک ادا کریں
ہم شام و کربلا کی زیارت کو جا سکیں
آ جائیگا قرار دلِ بے قرار میں
خودکش ہے بم دھماکے حدِ ظلم و جور ہے
کچھ سامنے ہے اور پسِ منظر کچھ اور ہے
اب بھی یزیدیت کے مظالم کا دور ہے
گر چہ یہ مومنین پہ مشکل کا دور ہے
دُنیا كے درد و غم ہیں بھلا کس شمار میں
اہل عزا کو جرات و تدبیر چاہیے
دیکھا ہے خواب خواب کی تعبیر چاہیے
تسکینِ قلبِ مادرِ شبیرؑ چاہیے
اب جنت البقی کی تعمیر چاہیے
آ جائے گی بہار اِس اجڑے دیار میں
الفاظ سے دلوں پہ حکومت ملی مجھے
مظلوم یہ حسینؑ سے طاقت ملی مجھے
منبر ملا حسینؑ کا عزت ملی مجھے
بدلے میں ایک اشک کے جنت ملی مجھے
گھاٹا کبھی ہوا نہیں اِس کاروبار میں
دَر پر تمھارے ہوتے ہے ہر روز معجزے
کتنے امیر ہو گئے اِس دَر کی بھیک سے
سب اپنے اپنے حصے کی خیرات لے گئے
ذکرِ اماِ عصرؑ میں حصہ قمر ملے
میں مطمئن ہوں میں بھی کھڑا ہوں قطار میں