چاندنی رات میں امیدوں كے دیپ جلائے تم نہیں آئے
سانس دھن سے باہر جھانکنے پل پل آئے تم نہیں آئے
آنکھوں میں مایوسی درد کی جھیل كے اندر ڈوب رہی ہے
موجِ اشک نے کتنے کاجل بہہ كے بہائے تم نہیں آئے
-- جیون کی وادی میں دیکھو چاروں اوڑھ اندھیرا ہے
کالی رات كے پیری بادل دِل پر چھائے تم نہیں آئے
امیدوں كے سارے تارے روتے روتے سو گئے سارے
جیون بیتا دروازے پر نظر جمائے تم نہیں آئے
-- کتنے پھول دعاؤں كے سے میری زباں سے دِل نے مانگے
تیری راہ پہ پھول لگا كے جتنے بچھائے تم نہیں آئے
ہونٹوں پہ آہوں نے آ کر ایسے کتنی بار پکارا
جیسے ماں کو روتے بیٹے دکھ میں بلائے تم نہیں آئے
ان میں لاکھوں امیدوں کی سسکیاں بھرتیں قبریں دیکھو
دھڑکن دھڑکن ہر آہٹ پر کان لگائے تم نہیں آئے
درد و الم کی کتنی صدائیں روتے ہوئے دم توڑ چکی ہیں
ہر دن سورج آس اُگائے آس مٹائے تم نہیں آئے
کتنے بدلے تیری آس میں رکھے ہوئے ہیں صدیوں ہی سے
عدل کی شمع تیری آس میں بجھتی جائے تم نہیں آئے
-- جعفر کرم الہی جذبے رات کی ڈھیر میں ڈھلتے جائیں
جملہ دعاؤں کا رنگ پھیکا پڑتا جائے تم نہیں آئے