بدلی سے چاند نکلنے دو
تب روشنی ہو گی تاروں میں
جب فخرِ خلیل آ جائے گا
تب کھیلیں گے پھول انگاروں میں
ہَم دیکھیں گے
جب بادل کڑ کڑ کڑکیں گے
جب بجلی چم چم چمکے گی
بجلی کی چمک ڈھونڈے گی انہیں
جو لوگ چُپے تھے غاروں میں
ہم دیکھیں گے
اک ہَم ہی تو ہیں جو دیکھیں گے
ہَم دیکھیں گے
حُسْنِ یوسفؑ یاد آئے گا
جب خلقت اُن کو دیکھے گی
ہَم نے بھی طور کو دیکھ لیا
یہ غل ہو گا زواروں میں
ہَم دیکھیں گے
اک خشک شجر کی ٹہنی پر
سب فدک کے غاصب گے
تب پھول كے شیدا دیکھیں گے
کچھ خار بھی ہیں گلزاروں میں
ہَم دیکھیں گے
اک ہَم ہی تو ہیں جو دیکھیں گے
ہَم دیکھیں گے
جب کعبے میں وہ آئیں گے
تب مصر کو کون پکارے گا
یوسفؑ بھی نظر آئیں گے وہاں
اے مولا تیرے بیماروں میں
ہَم دیکھیں گے
جب شمر و عمر کے یاتھوں میں
رسی بندھوائی جائے گی
کل تم نے حرم کو پھرایا تھا
اب تم بھی پھرو بازاروں میں
ہَم دیکھیں گے
وہ زلف کو جب لہرائیں گے
خود رات چُپے گی پردے میں
رخ دیکھ كے چاند بھی کہہ دے گا
کیا نور ہے ان رخساروں میں
ہَم دیکھیں گے
اک ہَم ہی تو ہیں جو دیکھیں گے
ہَم دیکھیں گے
قاسمؑ عباسؑ علی اکبرؑ
اک تخت پہ سب بیٹھے ہوں گے
جبریل بھی فخر سے بولیں گے
یہ ہیں میرے سرداروں میں
ہَم دیکھیں گے
اے ماجد شادمان ہوں گے ہَم
جب لشکر میں گونجے گی صدا
سلمان و عمار و بوذر
سب فوج كے ہیں سالاروں میں
ہَم دیکھیں گے