نادِ علیاً مظہر العجائب
پہرہ اِلٰہیات پہ نادِ علیؑ کا ہے
اِک خوف مشکلات پہ نادِ علیؑ کا ہے
سایہ عجائبات پہ نادِ علیؑ کا ہے
احسان کائنات پہ نادِ علیؑ کا ہے
ہے ورد دھڑکنوں کا یہی یا علیؑ مدد
نادِ علی سمٹ کے بنی یا علیؑ مدد
آدم سے کر رہا ہے سفر یا علیؑ مدد
ہے مرتضیؑ کے زیرِ اثر یا علیؑ مدد
تعویز ہے پہن لو اگر یا علیؑ مدد
کرتا ہے مشکلات کو سَر یا علیؑ مدد
محشر میں جب نماز بھی دامن چھڑائے گی
بس یا علیؑ مدد کی صدا کام آئے گی
اللہ نے علیؑ کو بنایا ہے معتبر
کیوں آگ لگ رہی ہے تجھے اِس کے نام پر
شک ہے اگر علیؑ کے فضائل پہ اسقدر
مُلا یہ روز روز کے جھگڑے تمام کر
دَم ہے اگر گرا دے یہ کعبہ علیؑ کا ہے
قرآن کو جلا دے قصیدہ علیؑ کا ہے
حوزہ ہے جو علوم کا وہ شخصیت علیؑ
معبود نے لکھی ہے جو وہ منقبت علیؑ
پہچان جس سے رب کی ہو وہ معرفت علیؑ
ذاتِ خدا جلی ہے جلی کی صفت علیؑ
معراجِ مصطفیؐ کا جو پردہ اٹھائے گا
اللہ نہیں علیؑ ہی نظر تجھ کو آئے گا
وہ کون ہے علیؑ نے کہا ہے جسے علیؑ
کس کے قدم قدم سے لپٹ کر وفا چلی
جس نے سپاہِ شام سے ہر سانس کھینچ لی
امُ البنیںؑ کا چاند وہ ولیوں کا ہے ولی
کہتی ہے کربلا یہ تعارف اُسی کا ہے
عباسؑ نام دوسرا نادِ علیؑ کا ہے
ایمان کی زُبان سے نادِ علیؑ پڑھو
ہو دُور سائبان سے نادِ علیؑ پڑھو
جینا ہے اِطمنان سے نادِ علیؑ پڑھو
لڑنا ہے طالبان سے نادِ علیؑ پڑھو
گر اِس صدا کو جنگ کا نعرہ بناؤ گے
ہر دور کے یزید کے چھکے چھڑاؤ گے