یہ دل سوچتا ہے یہ دل کھوجتا ہے
پتہ نئی یہ کیا ہے پتہ نئی یہ کیا ہے
ہجابوں کے اندر ہجابوں سے باہر
نقابوں کے اندر نقابوں سے باہر
نظر جو نہ آکر نظر آرہا ہے
پتہ نئی یہ کیا ہے پتہ نئی یہ کیا ہے
یہ کس کی زباں سے خدا بولتا ہے
یہ کس کا ہے لہجہ یہ کس کی صدا ہے
چھپا کون ہے اور-کون ظاہر ہوا ہے
پتہ نئی یہ کیا ہے پتہ نئی یہ کیا ہے
تم اپنی نظر سے علیؑ کو نہ دیکھو
علیؑ کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھو
جو مرتے ہوئے شافعی کہہ گیا ہے
پتہ نئی یہ کیا ہے پتہ نئی یہ کیا ہے
کہ ہو کبریا یا کہ ہو وہ پیمبرؐ
وہ ہو سیدہؑ یا ہو شبیرؑ و شبرؑ
ہے اِن کے سوا کون جس پر کھلا ہے
پتہ نئی یہ کیا ہے پتہ نئی یہ کیا ہے
یہ عصمت کی وحدت خدا کی حقیقت
ولی کی صفت انبیاء کی حقیقت
خدا کی قسم بس علیؑ جانتا ہے
پتہ نئی یہ کیا ہے پتہ نئی یہ کیا ہے
سمجھ میں جو آجائے کب وہ علیؑ ہے
خدا تو خدا ہے علیؑ تو علیؑ ہے
نصیری کو آخر یہ کیا ہو گیا ہے
پتہ نئی یہ کیا ہے پتہ نئی یہ کیا ہے
یہ کعبے کی دیوار میں دَر بنا کے
گھر اپنا سمجھ کر یہ گھر میں خدا کے
خدا تو نہیں ہے یہ کون آ رہا ہے
پتہ نئی یہ کیا ہے پتہ نئی یہ کیا ہے
جسے اپنے بستر پہ آئے سُلا کر
فلک پہ یہ دیکھا محمدؐ نے آکر
وہاں تو علیؑ تھا یہاں پر یہ کیا ہے
پتہ نئی یہ کیا ہے پتہ نئی یہ کیا ہے
نوید اور سرور خدا جانتا ہے
یہ اسرارِ توحید کس پر کھلا ہے
فقط سوچنا ہے فقط سوچنا ہے
پتہ نئی یہ کیا ہے پتہ نئی یہ کیا ہے