آخر حسینؑ ماں ہوں
نازوں کے پالے بیٹا آ جھولی میں پھیلاؤں
آخر حسینؑ ماں ہوں
کتنی تپش ہے بیٹا سایہ تیرا بناؤں
آخر حسینؑ ماں ہوں
حکمِ یزیدی آیا تیروں پہ تیر آیا
لاشوں کے بعد لاشہ زہراؑ کے گھر کا آیا
تنہا تجھے یہاں پر میں کیسے چھوڑ جاؤں
آخر حسینؑ ماں ہوں
اُجڑے نہ گھر کسی کا کرتی ہوں میں دعائیں
مقتل میں آ کے تجھ کو دیتی ہو میں صدائین
کیوں بولتا نہیں ہے آ کے تجھے مناؤں
آخر حسینؑ ماں ہوں
خنجر چلا نہ اس پہ ہے نازوں کا یہ پالا
گردن نہ کاٹ اس کی احمدؐ کا ہے دلارہ
دنیا سے جا کے بیٹا کہیں پھر میں مر نہ جاؤں
آخر حسینؑ ماں ہوں
ڈھونڈوں کہاں پہ جا کے بیٹا کدھر ہے میرا
پانی دیا نہ اس کو جلتا جگر ہے میرا
ٹکڑے اٹھا اٹھا کے لاشہ تیرا بناؤں
آخر حسینؑ ماں ہوں
دربارِ شام میں کیوں زینبؑ کا سر کھلا ہے
ہائے ہائے میری سکینہؑ کا کرتا بھی جلا ہے
اس حال بے بسی میں بیٹا میں مر نہ جاؤں
آخر حسینؑ ماں ہوں
روئے قبر میں بیٹا مقتل میں روئے زہراؑ
دربارِ شرابی میں روتی رہی ہے زہراؑ
روتے ہوئے حسن سے نوحہ تیرا لکھاؤں
آخر حسینؑ ماں ہوں
نازوں کے پالے بیٹا آ جھولی میں پھیلاؤں
آخر حسینؑ ماں ہوں