شہید کربلا , ہے دین کی بقا , ذہبیحِ نینوا، حسینؑ بادشاہ
حشر میں رنگ لائیگا خونِ شھیداں دیکھنا
آئیں گی جب فاطمہؑ ، حال پریشان دیکھنا
رو برو بابا کے جب خاتون جنّت آئینگی
خالی جولی سرورِ کونین کو دکھلائیں گی
بالیقین تھرائے گا، محشر کا میدان دیکھنا
رکھ دیا برچھی نے اکبرؑ کا کلیجہ چیر کے
دکھ بدل ڈالے ہیں اُمت نے تیری تصویر کے
مالکِ کوثر زرہ، اُمّت کے احسان دیکھنا
اصغرِؑ معصوم کے لب پر سوالِ آب ہے
بوند پانی کے لئے وہ کس قدر بیتاب ہے
نہر سے پانی نہیں، دیتے مسلمان دیکھنا
زینبؑ و کلثومؑ سے کہتا تھا شمرِ بد گہر
شام میں جائو گی ننگے سر پھرو گی در بدر
کربلا کے بعد اب، تاریک زنداں دیکھنا
غم بھلا گلزار کا اس دل کو روزِ حشر کا
جو ہے اولادِ پیغمبرؑ کی محبّت سے بھرا
بخشوا دینگے اسے، یثرب کے سلطان دیکھنا