آغاز ہو رہا ہے کـربل کی کہـانی کا
لوگوں یہ جنازہ ہے اسلام کے بانی کا
بی بی نے کہا بابا کربل میں چلے آنا
منظر میں دکھاؤں گی اکبرؑ کی جوانی کا
کٹ جائيں گے بازو بھی عباسؑ باوفا کے
کوزوں سے ہوگا جھلنی مشکیزہ وہ پانی کا
بکھرے گا کربلا میں قاسم کے سر کا سہرا
خوشیاں سمیٹ لے گا عالم وہ ویرانی کا
روتے تھے فرشتے بھی تھا ارض و سماں لرزہ
تابوت اٹھ رہا ہے عمران کے جانی کا
تاحشر میرے مولا مشتاق رہوں تیرا
مل جاۓ شرف مجھ کو بس تیری غلامی کا
آغاز ہو رہا ہے کـربل کی کہـانی کا
لوگوں یہ جنازہ ہے اسلام کے بانی کا