باقر کا آج اٹھا یثرب میں ہے جنازہ
بادل یتیمی کا ہے جعفر کے سر پے چھایا
باقر کا آج اٹھا یثرب میں ہے جنازہ
لے کر چلیں ہیں زخم دل میں لئے بہتر
دیکھا ہے کمسنی میں منظر جو کربلا کا
باقر کا آج اٹھا یثرب میں ہے جنازہ
کرتے تھے یاد رو کر اصغر کی ماں کو باقر
کربل کے بعد پایا پانی نہ کوئی سایا
باقر کا آج اٹھا یثرب میں ہے جنازہ
لمحہ تھا حشر کا وہ جب باپ اور بیٹا
مل کر بنا رہے تھے ہاے تربت سکینہ
باقر کا آج اٹھا یثرب میں ہے جنازہ
اک پل نہ چین پایا باقر نے زندگی میں
چالیس سال بابا کو خون روتے دیکھا
باقر کا آج اٹھا یثرب میں ہے جنازہ
مولا ملا ہے تم کو تابوت بھی کفن بھی
بے غسل و بے کفن تھا مقتل میں شہ کا لاشہ
باقر کا آج اٹھا یثرب میں ہے جنازہ
رکتے نہیں ہیں آنسو مولا کے وقت آخر
کیا یاد آ رہا ہے اصغر کا مسکرانا
باقر کا آج اٹھا یثرب میں ہے جنازہ
خیرات درد ملتی میثم کو ہے یہیں سے
کیوں کے جہان والوں یہ در ہے ہل اتا کا
باقر کا آج اٹھا یثرب میں ہے جنازہ
بادل یتیمی کا ہے جعفر کے سر پے سایا