آ كے رسیوں سے سکینہؑ کو چُھڑا لو بابا
میں ہوں مشکل میں
مجھے پاس بلا لو بابا
آ كے رسیوں سے سکینہؑ کو چُھڑا لو بابا
نیند آتی نہیں سونے سے بھی ڈر لگتا ہے
لوں جو کروٹ تو میرے کانوں سے خون رِستا ہے
اپنے سینے پہ
گھڑی بھر کو سُلا لو بابا
آ كے رسیوں سے سکینہؑ چُھڑا لو بابا
تیرے قاتل مجھے رونے سے منع کرتے ہیں
جب بھی روتی ہوں تو عابدؑ پہ ستم کرتے ہیں
کُھل كے رو لوں مجھے
نیزے پہ اُٹھا لو بابا
آ كے رسیوں سے سکینہؑ کو چُھڑا لو بابا
بھاگتے اونٹ سے بابا میں کئی بار گری
دُر بھی چھینے میرے دیکھو میری پوشاک جلی
مجھ کو زنداں كے
اندھیروں سے نکالو بابا
آ كے رسیوں سے سکینہؑ کو چُھڑا لو بابا
شمر سے مانگوں جو پانی تو جھڑک دیتا ہے
پِھر میرے سامنے مٹی پہ گرا دیتا ہے
بھیج كے غازیؑ کو
دو بوند منگا دو بابا
آ كے رسیوں سے سکینہؑ کو چُھڑا لو بابا
نہ کوئی مجھ کو بلاتا ہے سكینہؑ کہہ كے
شام كے لوگ بلاتے ہیں یتیما کہہ کے
ٹھوکریں کھاتی
سكینہؑ کو سنبھالو بابا
آ كے رسیوں سے سکینہؑ کو چُھڑا لو بابا
بال کھینچے ہیں میرے رخ پہ تمانچے مارے
دیکھ كے غازیؑ كے سر کو رہے ہنستے سارے
ہئے ذرا اپنا
وفادار جگا لو بابا
آ كے رسیوں سے سکینہؑ کو چُھڑا لو بابا