Aaghaz ho chuka hay Karbal ki kahani ka
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

آغاز ہو چکا ہے کربل کی کہـانی کا
لوگو یہ نواسہ ہے اسلام کے بانی کا

چل جائے گا اب خنجر شبیرؑ کی گردن پر
لٹ جائے گا کربل میں گھر زہراؑ کے جانی کا
.....لوگو یہ نواسہ ہے اسلام کے بانی کا
.....آغاز ہو چکا ہے کربل کی کہـانی کا

سو جائے گا اکبرؑ بھی سینے پہ سِنا کھا کر
ماتم فضا میں ہو گا پھر اُسکی جوانی کا
.....لوگو یہ نواسہ ہے اسلام کے بانی کا
.....آغاز ہو چکا ہے کربل کی کہـانی کا

زینبؑ نے کہا بھیا میں دشت میں آتی ہوں
اب لاشہ اٹھانا ہے اکبرؑ کی جوانی کا
.....لوگو یہ نواسہ ہے اسلام کے بانی کا
.....آغاز ہو چکا ہے کربل کی کہـانی کا

ھَلمِن کی صدا سن کر سُوکھی زباں سے اصغرؑ
معنے ہی بدل دے گا وہ تشنہ دہانی کا
.....لوگو یہ نواسہ ہے اسلام کے بانی کا
.....آغاز ہو چکا ہے کربل کی کہـانی کا

پامال ہو گا قاسمؑ کربل کی سر زمیں پر
ٹکڑوں میں ہو گا لاشہ شبّر کی نشانی کا
.....لوگو یہ نواسہ ہے اسلام کے بانی کا
.....آغاز ہو چکا ہے کربل کی کہـانی کا

کٹ جائیں گے بازو بھی عباسؑ با وفا کے
تیروں سے ہو گا چھلنی مشکیزہ وہ پانی کا
.....لوگو یہ نواسہ ہے اسلام کے بانی کا
.....آغاز ہو چکا ہے کربل کی کہـانی کا

تڑپے گی سکینہؑ بھی ہئے پیاس کی شدّت سے
قطرہ نہیں ملے گا معصومہؑ کو پانی کا
.....لوگو یہ نواسہ ہے اسلام کے بانی کا
.....آغاز ہو چکا ہے کربل کی کہـانی کا

زینبؑ کے پسر دونوں مر جائیں گے پیاسے ہی
وعدہ کیا تھا ماں سے ہئے خشک زبانی کا
.....لوگو یہ نواسہ ہے اسلام کے بانی کا
.....آغاز ہو چکا ہے کربل کی کہـانی کا

ظلمت کے اندھیرے میں اور شامِ غریباں میں
پردہ نہ بچ سکے گا کسی ایک سیدانی کا
.....لوگو یہ نواسہ ہے اسلام کے بانی کا
.....آغاز ہو چکا ہے کربل کی کہـانی کا

دربارِ یزیدی مِیں جاؤں گی مَیں کُھلے سر
پھر سے سُنیں گے خطبہ وہ زہراءِ ثانی کا
.....لوگو یہ نواسہ ہے اسلام کے بانی کا
.....آغاز ہو چکا ہے کربل کی کہـانی کا

رضوان کے نوحے سے ناصر کی صداؤں سے
کچھ تو ادا ہی ہو گا حق اشک فشانی کا
.....لوگو یہ نواسہ ہے اسلام کے بانی کا
.....آغاز ہو چکا ہے کربل کی کہـانی کا