جب چلے رن کو شاہِ کرب و بلا
شور خیموں میں تھا قیامت کا
شہہؑ نے بیٹی کو گود میں جو لیا
اُس نے رو کر پِدر سے یہ پوچھا
بابا اتنا مجھے بتاییں گے
کیا سكینہؑ کو بھول پائیں گے
اِس قدر آپ کا ہے خشک گلا
آہ بھرنے کا حوصلہ نہ رہا
کس طرح لوریاں سنائیں گے
کیا سكینہؑ کو بھول پائیں گے
اپنے جذبات کر لئے قابو
آپ نے ضبط کر لئے آنسو
زخمِ دل کس طرح چھپائیں گے
کیا سكینہؑ کو بھول پائیں گے
کوئی باقی نہیں رہا بابا
آپ خود جا كے لائے ہر لاشا
اپنی خاطر کِسے بلائیں گے
کیا سكینہؑ کو بھول پائیں گے
آخری بار دیکھ لوں چہرہ
مجھ کو جانے ہے کیوں یقیں بابا
آپ اب لوٹ کر نہ آئیں گے
کیا سكینہؑ کو بھول پائیں گے
شہہؑ نے بیٹی كے سر پہ ہاتھ رکھا
اور درویش رو كے اِتنا کہا
تم سے پہلے نہ خلد جائیں گے
کیا سكینہؑ کو بھول پائیں گے