اٹھ گیا باپ کا سَر سے سایہ
آج زینبؑ یتیم ہو گئیں
زخم تازہ تھا مادر کا دِل میں
روئیں بابا كے غم میں آنکھیں
غم یتیمی کا زینبؑ نے پایا
آج زینبؑ یتیم ہو گئیں
رو رہے ہیں یہ محراب و منبر
کہہ رہے ہیں یہ جبریلؑ رو کر
ابن ملجم نے یہ ظلم ڈھایا
آج زینبؑ یتیم ہو گئیں
اٹھ رہا ہے جنازہ علیؑ کا
خانہءِ رب میں ماتم ہے برپا ہے
سوگ میں ڈوبا گھر سیدہؑ کا
آج زینبؑ یتیم ہو گئیں
کون كلثومؑ کو دے دلاسہ
اور تڑپتی ہیں غم سے خدیجہؑ
مولا عباسؑ کرتے ہیں گریہ
آج زینبؑ یتیم ہو گئیں
عرش پر مصطفیٰؐ رو رہے ہیں
سب كے سب انبیاء رو رہے ہیں
ہے فرشتوں میں کہرام برپا
آج زینب یتیم ہو گئیں
اٹھ رہا ہے جنازہ علیؑ کا
ایک محشر کا عالم تھا برپا
سب كے ہونٹوں پہ تھا ایک نوحہ
آج زینبؑ یتیم ہو گئیں
گھر سے میّت علی کی جو اٹھی
رک گئی نبظ دونوں جہاں کی
عرش والے بھی کرتے ہیں گریا
آج زینبؑ یتیم ہو گئیں
سارے الفاظ روتے ہیں مظہر
فرش مجلس پہ یہ بات کہہ کر
دیجئے اپنی بی بی کو پُرسَہ
آج زینبؑ یتیم ہو گئیں
گھر پہ فرش عزا بچھ گیا ہے