آبروِ لا الہٰ سجدہ شبّیرؑ ہے
تیرے دم سے یا حسینؑاؑ نعرہ تکبیر ہے
یا حسینؑ حسینؑ یا حسینؑ
یا حسینؑ حسینؑ یا حسینؑ
لکھ دیا خون سے حسینؑا پرچمِ اسلام پر
سر کٹانا راہ حق میں دین کی توقیر ہے
لاشہءِ اکبرؑ اٹھا کر بولے شاہِ کربلا
خاک و خون میں سرورِؑ کونین کی تصویر ہے
دیکھئیے ایوبؑ آ کر صبر کی منزل ذرا
ہاتھوں پہ شاہ ضمن کے لاشہ بیشیر ہے
کس طرح دفنائے زینبؑ لاش کو تیری حسینؑ
ہاتھوں میں رسی بندھی ہے سر کھولے ہمشیر ہے
اس طرح عرفان ہوتا ہے فریضِ حق ادا
خون میں ڈوبی ہوئی پیشانیءِ شبّیرؑ ہے