آخری رات سکینہؑ کی
ہائے ہائے ہائے
میں خاک پہ سوجائونگی ہاں کہتی ہوں بابا
سینے پہ سلانے کو کہاں کہتی ہوں بابا
کہتی ہوں کے چہرہ ہی دکھا جائیے بابا
مرنے سے پہلے ہی آجایئے بابا
پہلو میں چھپانے کو کہاں کہتی ہوں بابا
بابا میرے بچپن کا تقاضہ تو نہیں تھا
خوابوں میں کھلونے تھے جنازہ تو نہیں تھا
گودی میں کھلانے کو کہاں کہتی ہوں بابا
بابا میرے زخموں کی دوا کون کریگا
اب جان سکینہؑ کو بھلا کون کہے گا
پہلو میں چھپانے کو کہاں کہتی ہوں بابا
زنداں کے اندھیروں میں سلا کیوں نہیں دیتے
بابا مجھے مرنے کی دوا کیوں نہیں دیتے
میں لوری سنانے کو کہاں کہتی ہوں بابا
مر جائوں اگر بابا تیرا شام ہو آنا
بیمار اکیلا ہے جنازے کو اٹھانا
گودی میں اٹھانے کو کہاں کہتی ہوں بابا
کوئی بھی نہیں آنسو میرے پونچھنے والا
سر پہ نہیں ہاتھوں کو کوئی پھیرنے والا
بانہوں میں چھپانے کو کہاں کہتی ہوں بابا
ارمان سکینہؑ کے یہی بین تھے ہائے
میں کہتی رہی بابا مگر آپ نہ آئے
تربت میں بنانے کو کہا کہتی ہو بابا
بابا کو رونے والی
سینے پہ سونے والی
سکینہؑ گزر گئی