Karbala ke dasht may bagh e Iram dekha gaya
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

جاں    نثارانِ   حُسین    ابنِ   علیؑ    کے    واسطے
کربلا   کے   دشت   میں   باغِ   ارم   دیکھا   گیا
 
اِرجَعِی    کے    حکم   کی   تعمیل   میں   شبیرؑ    کا
بر     سرِ    نیزہ    سرِ    تسلیم    خم    دیکھا      گیا
 
تیر   آنکھوں   میں   لگا   شانے   کٹے  عبّاسؑ کے
منسلک  مشکیزے   سے   پھر  بھی   عَلَم  دیکھا  گیا
 
زینبؑ  و  سجّادؑ   کے   خطبوں  کی   ہیبت  دیکھ  کر
خاک   میں    ملتا    ہوا    جاہ  و  حشم   دیکھا   گیا
 
ھٰذَا   مِن   فَضلِ   حُسینِ   ابنِ   علیؑ     کہنے    لگا
جھولے سے مس ہوتے  ہی جس پر کرم دیکھا گیا

دو  دو  حیدرؑ   ہر  طرف  آئے  نظر  صِفّین  میں
حضرتِ   عباسؑ    کو    بھی     ہمقدم    دیکھا    گیا

تیغِ  حیدرؑ  جب  چلی  تھی  جنگ  میں  صِفَّین  کی
ہر  نفس  تھا  خون  میں  اپنے  ہی  نم  دیکھا   گیا

نورِ   زہرا    کے    لئے    جانا    پڑا    معراج    پر
کوئی   نہ   ایسا    جہاں   میں   محترم    دیکھا    گیا

مشکلوں  میں   یا  علیؑ   سارے   مُحِبّوں   نے   کہا 
نیست    اور    نابود    ہر    اہل  ستم   دیکھا    گیا

فکر  کی  رفعت  پہ  جا  کے  ہاتھ میں رضوان کے
خود  خدا  کے  لطف   سے   لکھتا   قلم   دیکھا   گیا