Nabi ne kar diya aisa koi ailan sehra may
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

نبیؐ نے کر دیا ایسا کوئی اعلان صحرا میں
کہ دیں کے دشمنوں کے بہہ گئے ارمان صحرا میں

گرے پڑتے تھے سجدوں میں ادائے شُکر کی خاطر
ابوذر، قنبر و مقداد اور سلمان صحرا میں

محافظ دین کا ایسے بنایا شیرِ یزداںؑ کو
نکلتی جا رہی تھی کافروں کی جان صحرا میں

میں جس کا مولا ہوں میرا علیؑ بھی اُس کا مولا ہے
یہ جاری ہو گیا اللہ کا فرمان صحرا میں

مبارک کے لئے عرشِ بریں سے قافلے آئے
نچھاور سب فرشتے کر رہے تھے جان صحرا میں

علیؑ کو جب نبیؐ نے ہاتھوں پر اُس دن اٹھایا تھا
تو جھوٹے منہ مبارک کہہ گیا شیطان صحرا میں

جو ماہر بھاگنے میں تھے وہ میداں میں ہی ٹھہریں گے
اِسی خاطر اُتارے سب گئے پالان صحرا میں

تپش ظلمت کی مومن کو کہیں گھائل نہ کر جائے
گھٹا رحمت کی چھائی ، ہو گئی باران صحرا میں

امیر المومنیںؑ کی تاج پوشی کی خوشی پا کر
نمازِ عشق کی گونجی حَسِیں آذان صحرا میں

ابھی رکھا نہیں تھا منقبت لکھ کر قلم تو نے
بُلاوا آ گیا خُم سے تِرا رضوان صحرا میں