Laboon par muskurahat chaa rahi hay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

لبوں پر مسکراہٹ چھا رہی ہے
فضا تبدیل ہوتی جا رہی ہے

سُنا ہے قاتلِ شہہؑ مر گیا ہے
خوشی سجّادؑ کی بتلا رہی ہے

نہیں بچ پائے گا کوئی یزیدی
صدا مختار کی دھمکا رہی ہے

امامِ عصرؑ کی ہے تاجپوشی
امامت دہر کو مہکا رہی ہے

شروع ہو کر امامت بارہویںؑ کی
منافق کو جَلانے آ رہی ہے

جسے تبدیل کر کر کے بنایا
وہی تاریخ اب پھنسوا رہی ہے

ہر اِک ظُلم و ستم کا خاتمہ اب
یقینی بات بنتی جا رہی ہے

بہت مسرور ہیں سارے ہی مومن
مُسرّت اشک دھوتی جا رہی ہے

حُسینی فکر ہے چھائی جہاں میں
یزیدی سوچ اب گھبرا رہی ہے

حُسینی عشق کی رضوان نِکہت
تِرے بھی قلب کو گرما رہی ہے