Kuch bhi nahi
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

چودہ صدیوں سے ہے جاری مدحتِ شیرِ خدا 
پر ہوا حق مدح خوانی کا ادا کچھ بھی نہیں

تشنگی بڑھتی گئی جوں جوں فضائل کو پڑھا
یوں لگا جیسے فضیلت میں لکھا کچھ بھی نہیں

گونجتی تھی ہر طرف مَن کُنتُ مولاؑ کی صدا
کان رکھتے تھے سبھی لیکن سُنا کچھ بھی نہیں

شق ہوئی دیوارِ کعبہ مرتضیٰؑ کے واسطے
پھر سے ایسے جڑ گئی جیسے ہوا کچھ بھی نہیں
 
عرش پر معراج میں بُرّاق سے پہنچے نبیؐ
کیسے پہنچے تھے وہاں حیدرؑ پتا کچھ بھی نہیں

بغضِ حیدرؑ دل میں رکھ کر کیا عبادت کیا نماز 
جان لو ایسے منافق کی جزا کچھ بھی نہیں

دستِ حیدرؑ سے چلی ہے جب بھی رن میں ذوالفقار
کٹ گئے سارے منافق اور بچا کچھ بھی نہیں

جب بھی مشکل کوئی آئی ہے درِ رضوان پر
یا علیؑ اُس نے کہا اِس کے سوا کچھ بھی نہیں