Mera Hasan Nabi ke chaman ki bahar hay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

زہراؑ کی جان ہے یہ علیؑ کا قرار ہے
میرا حسنؑ نبیؐ کے چمن کی بہار ہے

ماہ میں رمضان کے ہے آمد مولا حسن
ایک ماہ میں دوسرے قرآن کا اظہار ہے

 بخش دے جنت جسے چاہے جہان دے
مولاؑ حسنؑ کو خاص مِلا اختیار ہے

جب چاہے جس کی چاہے یہ قسمت سنوار دے-----
قدرت نے اِس کو بخش دیا اختیار ہے----'

بس اِک علیؑ ہے اک حسنؑ اور اِک حسینؑ ہے
کوئی نہ اور دوشِ نبیؐ کا سوار ہے

کٹ کٹ کے گرتے جاتے تھے سب دشمنانِ دیں
گویا حسنؑ کا چلتا قلم ذوالفقار ہے

چودہ سو سال بیت چکے پر فضاؤں میں
چھایا حسنؑ کی فتح کا اب تک خمار ہے

منزل کو پہنچے بالیقیں سب صاحبانِ عقل-----
دشمن حسنؑ کا آج بھی پکّا حمار ہے-----

دل میں ہو یا حسینؑ تو دھڑکن میں یا حسنؑ
مومن کو جا کے تب کہیں مِلتا قرار ہے

دشمن کی مدح ہوتی تھی اب لعنتوں میں ہے
کیسا چڑھاؤ تھا وہ ، یہ کیسا اُتار ہے

محفل میں آؤ نیکی یہیں پر کمائیں گے
حشر میں بند ہر طرف یکسر اُدھار ہے

رضوان شعر گوئی تمہارا نہیں کمال
مولا حسنؑ کے فیض سے یہ اِفتخار ہے