Jo kisi ko bhi na mil saka Shabbar ka wo maqam hay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

جو  کِسی  کو بھی  نہ  مِل  سکا  شبّرؑ  کا وہ مقام  ہے
تیر  و  تبر   نہ کر سکیں  وہ  کِیا  قلم سے کام  ہے
عرش بریں پہ ہے لکھا مولا حسن کا نام ہے

کتنی عظیم  ماں  ہے وہ  جس کا حسنؑ ہے لاڈلا
اُس ماں  کی پاک گود میں   جلوہ نما امامؑ  ہے

دوشِ  نبیؐ  پہ  ہیں  حسنؑ  زلفِ  نبیؐ ہے ہاتھ میں
گویا   حسنؑ   نے  دہر   کا   تھاما   ہوا   نظام   ہے

جیسے  کہ  ذوالفقار  نے   اُلٹا   تھا   بابِ  خیبری
اُلٹا  قلم  کی  نوک سے   شبّرؑ نے تختِ شام ہے

جس  پہ  خدا  کو  ناز  ہے   جو  ہے  بِنائے  لا  الہ
ایسے  حَسِیں  حُسین ؑ   کا    مولا   حسنؑ   امام   ہے

بکھری ہے  فاطمہؑ  کے  گھر خوشبو  نئے  گلاب کی
جس  کی  مہک  سے  جھومتا  مولاؑ  کا  ہر غلام ہے

کیونکر نہ خوش ہوں بزم میں رضوان و ناصرِ حَسِیں
ان عاشقوں  کے  ہاتھ  میں عشقِ حسنؑ  کا جام ہے