Goad may Ahmed ki aa kar muskuratay hain Hussain(as)
Efforts: Syed Hussain Shah Geelani

میں ہوں جانِ مصطفیٰؐ بس یہ بتاتے ہیں حسینؑ
گود میں احمدؐ کی آ کر مسکراتے ہیں حسینؑ

پیجتن تھے نا مکمّل اب مکمّل ہو گئے
جب کساء کی بزم میں بھی جگمگاتے ہیں حسینؑ

شان تیرئ بھی کیا ہے اے عزادارِ حسینؑ
تیری عظمت خود زمانے کو سناتے ہیں حسینؑ

یوں پڑھا کرتے ہیں تیروں کے مصلّے پر نماز
زیرِ خنجر سر کٹا کر یہ دکھاتے ہیں حسینؑ

میں بلند تھا، میں بلند ہوں میں رہوں گا سربلند
پڑھ کے قرآن نوکِ نیزہ پر بتاتے ہیں حسینؑ

کربلا میں انبیاء مرسل سبھی حیران تھے
حُر کو جب اپنے گلے آ کر لگاتے ہیں حسینؑ

لڑکھڑا جاتے ہیں اب بھی وقت کے سارے یزید
پرچمِ عباسؑ جب بھی ہم اٹھاتے ہیں حسینؑ

کس طرح نازوں سے پالا ہے سخی عباسؑ کو
اِس کا جھولا اپنے ہاتھوں سے جھلاتے ہیں حسینؑ

منتظر کب سے کھڑا ہوں میں درِ فردوس پر
اب چلے آؤ عزادارو بلاتے ہیں حسینؑ

اِس سے بڑھ کے کیا ہوں یہ سب برکاتِ خدا
گھر میں ہم تیری عزاداری مناتے ہیں حسینؑ

ایک لمحہ تھا جوانی میں بڑھاپا ڈھل گیا
سینہءِ اکبرؑ سے برچھی جب ہٹاتے ہیں حسینؑ

آنکھ میں جلتے ہوئے خیموں کا منظر نقش ہے
خون اپنی آنکھ سے اب تک بہاتے ہیں حسینؑ

(سید حسین شاہ گیلانی)