Meray Mola aao ke muddat hui hay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

میرے آقا آ جا کہ مدت ہوئی ہے
تری رہ میں انکھیاں بچھاتے بجھاتے
دئے حسرتوں کے جلاتے جلاتے 
بڑے دن ہوئے گھر سجاتے سجاتے

مِرا یہ ہے ایماں یہ میرا یقیں ہے
ظہورِ امامِ زماںؑ اب قریں ہے
نظر میں اُجالا ہے وقتِ سحر ہے
کئی نسلیں گزریں بُلاتے بُلاتے

کتابِ ولایت کا وارَث یہی ہے
چراغِ امامت کی ڈھارس یہی ہے
کبھی جس نے کوشش بجھانے کی ہے
جہنّم میں پہنچا بجھاتے بجھاتے

دیا جل رہا ہے جو بارہ صدی سے
لڑا ہے ہمیشہ ہوائے بدی سے
پَلے ہم ہیں اِس نور کے سائباں میں
چراغِ مودّت جلاتے جلاتے

لہو اہل حق کا بہایا بہت ہے
تیرے دشمنوں نے رُلایا بہت ہے
گزرتی ہے شام و سحر ظالموں کی
محبّوں کو تیرے ستاتے ستاتے

امام زمان سے وفا ہم کریں  گے
مقدر کا اپنے گلہ ہم کریں گے
یقیں مانیے ہوں گے لشکر میں شامل
کہ نعرہ علیؑ کا لگاتے لگاتے

فلک پر ہیں عیسیؑ اور اہلِ نظر ہیں
زمیں پر یہ سارے مُحِب منتظر ہیں
دعائے فرج ہم سبھی پڑھ رہے ہیں
مصلّے پہ آنسو بہاتے بہاتے

امامِ زمانہ کے آنے کا دن ہے
تمام اپنی حاجت بتانے کا دن ہے
مناتے ہیں مِل کے یوں جشنِ وِلادت
عریضوں میں آنسو چھپاتے چھپاتے

سبھی جانتے ہیں کَٹَھن یہ سخن ہے
بڑا خوش قلم ہے بڑا خوش لہن ہے
ملا ہے یہ رضوان اعزاز تجھ کو
مودّت کا نغمہ سناتے سناتے