Tu jo Panjtan ka ghulam hay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

تو جو پنجتن کا غلام ہے 
کیا حسینؑ تیرا امام ہے

وہی مصطفیﷺ جو ہے قُل کفا
کبھی اِنَّما کبھی ہل عطا
تجھے اُس نبیؐ کا شعور کیا
تُو نے اُس کو خود سا بھی کہہ دیا
جسے سوچنا بھی حرام ہے
تو جو پنجتن کا غلام ہے 

تجھے مرتضیٰؑ کی شناس ہے
جو کہ خود خدا کا لباس ہے
تیرے دین کی جو اساس ہے
جسے کبریائی بھی راس ہے
جو دلیل رَبِّ انام ہے
تو جو پنجتن کا غلام ہے 

جو طہارتوں کی ہے انتہا
جو شرافتوں کی ہے سجدہ گاہ
یہ تو اُس کے در کا ہے مرتبہ
کہ وہاں پہ جھکتا نبی رہا
جسے رب بھی کرتا سلام ہے
تو جو پنجتن کا غلام ہے 

جسے ابتدائے چمن کہیں
جسے جانِ جانِ زمن کہیں
جسے سیدہ کا سخن کہیں
وہ سخی کہ جس کو حسنؑ کہیں 
جو نبی کا حُسنِ تمام ہے
تو جو پنجتن کا غلام ہے 

جو ملا علیؑ کی ہی عین سے
اُسی شہنشاہ کی دین سے
وہ تیرا خدا بھی ہے چین سے
تجھے رب ملے گا حسینؑ سے
وہ کلیم ہے یہ کلام ہے
تو جو پنجتن کا غلام ہے