Taigh e Haider ke muqabil kon thehra sar samait
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

تیغِ حیدر کے مقابل کون ٹہرا سر سمیت
ہو گیا منظر سے غائب اپنے پس منظر سمیت

وہ تو غیض مرتضی پر رحم غالب آگیا
ورنہ اے جبریل کٹ جاتی زمیں شہپر سمیت

پہلے سر انتر کا کاٹا پھر کیا مرحب پہ وار
لاش مرحب کی گری لیکن سرِ انتر سمیت

ہاتھ میں اک پھول تتلی پھول سے لپٹی ہوئی
تھا یونہی اک ہاتھ میں خیبر کا در لشکر سمیت

وہ تو قنبر نے مہار اونٹوں کی فورا چھوڑ دی
ورنہ کہہ دیتے علیؑ لے جا انہیں قنبر سمیت

پنجتن کے نام جن کے بادبانوں پر نہ ہوں
ڈوب جائیں گی وہ ساری کشتیاں لنگر سمیت

عشق کے آداب کوئی حُر سے سیکھے اے سروش
ڈال دیں قدموں میں شہہ کے دولتیں دل سر سمیت