Kehnay ko mera aaj ka unwan hay Asghar
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

کہنے کو میرا آج کا عنوان ہے اصغر
لیکن میرے ادراک کی پہچان ہے اصغر
مانا کے قلم کے لیے ذیشان ہے اصغر
کس طرح سے لکھوں میرا عرفان ہے اصغر
مجھ پر یہ میرے مالک کا احسان بڑا ہے
جو کچھ ہے میرے پاس وہ اصغرکی عطا ہے

جب ابنِ ولی دشت میں آئے تھے عدن سے
گل چیں نے چُنا تھا اسے معصوم چمن سے
کچھ دن کا ہی لے آئے تھے شبیر وطن سے
سمجھو کبھی معصوم کے معصوم چلن سے
اصغرؑ کے بنا شاہؑ کا چارہ بھی نہیں تھا
اللہ کی ضرورت کا گزارہ بھی نہیں تھا

شاہوں کا شہنشاہ ہے میرے شاہؑ کا بچہ
جس راہ پہ محمدؐ ہیں اُسی راہ کا بچہ
ہر حال میں توحید سے آگاہ کا بچہ
لو آگیا میدان میں چھ ماہ کا بچہ
بے شِیر کے بیتاب رویّے سے یہ طے ہے
اِس عُمر کا کیا "عمر" تو بے کار سی شئے ہے

جس نے بھی مصیبت میں یہی نام الاپا
چھوٹوں کو دِیا ہے اِسی چھوٹے نے بڑا پا
چھ ماہ کے بدن میں کئی صدیوں کا سراپا
آنے نہ دِیا لفظِ علیؑ پر بھی بڑھاپا
میدانِ شہادت میں یہ جُرّات کا ولی ہے
حد ہوگئی اصغرؑ سے بھی پہلے یہ علیؑ ہے

حسینؑ فرماتے ہیں:
ویسے تو میرے چاند بڑائی نہیں اچھی
کمظرف قبیلے سے لڑائی نہیں اچھی
یہ وہ ہیں کہ خود ان کی اچھائی نہیں اچھی
بے چاروں نے تقدیر ہی پائی نہیں اچھی
عباسؑ، نہ اکبرؑ، نہ میرا عونؑ لڑا ہے
لاشیں جو پڑی ہیں ناں--- ذرا جونؑ لڑا ہے

باطل سے سدا برسرِ پیکار ہو تم بھی
ہر دور میں "اصغر" کے مددگار ہو تم بھی
کرّار کے پوتے ہو تو کرّار ہو تم بھی
سُنتے ہیں کہ میدان کو تیار ہو تُم بھی
آؤ کہ ذرا بھائی کی جاگیر تو دیکھو
لڑنا تو نہیں--- خلد کی تعمیر تو دیکھو

اصغرؑ فرماتے ہیں:
ظاہر میں جب اس قوم پہ اوقات کروں گا
باطل کے لیے دن میں سیاہ رات کروں گا
بابا نہ لڑوں گا نہ کوئی بات کروں گا
میں اپنے تبّسُم سے ہی اُنہیں مات کروں گا
میں اتنا ہنسوں گا--- مجھے جب تیر لگے گا
قاتل بھی میرے سامنے بے شِیر لگے گا!!!

ہر جنگ میں قانون ہے ہتھیار سے لڑنا
خنجر سے کہیں تِیر سے ،تلوار سے لڑنا
آتا ہی نہیں لوگوں کو افکار سے لڑنا
سمجھاؤں گا دُنیا کو میں کِردار سے لڑنا
جو مھَد میں بولا تھا--- میں اُس کا بھی ولی ہوں
خیّام میں اصغر تھا--- یہاں پر تو علی ہوں!!!

بے دل کا جو دل ہے میں اُسی دل کا مکیں ہوں
چھوٹا ہوں مگر جسمِ شریعت کی جبیں ہوں
حد یہ ہے کہ انگُشتِ شہادت کا نگیں ہوں
اکبرؑ سے نہ لوں داد تو اصغرؑ ہی نہیں ہوں
اس نسل سے ہر نسل کو امداد ملے گی
ماؤں کو میرے جھولے سے اولاد ملے گی!!

علی اصغرؑ کا فوجِ شام سے خطاب:
بابا مجھے لے آئے ہیں ذیشان سمجھ کر
اُمّت کے لیے خلد کا سامان سمجھ کر
مت رحم کرو تم مجھے قرآن سمجھ کر
نادان نہ بننا کہیں نادان سمجھ کر
آخر میں جو آیا ہوں--- سمجھتے ہو میں کیا ہوں؟؟؟
اصغر ہوں مگر جنگ میں اکبر سے بڑا ہوں!

تم کرتے ہو مسموم ہواؤں کو جو مہیمیز
ہم لوگ بھی کردیتے ہیں راہوار کرم تیز
سوچو کبھی لڑ سکتے ہیں کیا بنجر و زرخیز؟؟
تم پی کے پیاسے ہو تو ہم پیاس میں لبریز
ڈھوبڈے ہیں تمھارے لیے بخشش کے سبب کیا
ہم پانی سے پہلے ہمیں پانی کی طلب کیا!!

کس شان سے ہم عالمِ امکان میں آئے
احسان کیا صورتِ انسان میں آئے
آیات کی صورت کبھ قرآن میں آئے
اسلام سکھانے تمھیں میدان میں آئے
سچ یہ ہے کہ یہ سچ تمھیں بھولے کی طرح ہے
میدان ہمارے لیے جھولے کی طرح ہے

ہر دور میں ہر جنگ کی تادیب یہی ہے
ادیان میں احرار کی تہزیب یہی ہے
میدان میں کرّار کی ترکیب یہی ہے
قرآن میں آیات کی ترتیب یہی ہے
اِس جسم میں دِل دھڑکے ہے عباسؑ کی صورت
صورت ہے میری سورتِ والناس کی صورت

ہم خلق ہوئے، ہم نے کِیا خلق یہ جینا
ہم سے ہی بنا دہر میں بخشش کا سفینہ
کہتے ہو جسے رزق وہ ہے اپنا پسینہ
معصوم کے ٹکڑوں پہ ہی پلتے ہو سبھی نا
دوزخ کی طرف اپنے عمل جھونک رہے ہو
کھاتے بھی ہمارا ہو--- ہمیں بھونک رہے ہو؟؟

کرنا نہ گناہوں کی کوئی چاپ فراموش
ہو پائے گا نہ تم سے کبھی پاپ فراموش
ہو جاو گے تاریخ سے تم آپ فراموش
شبیرؑ کا دشمن ہے فقط باپ فراموش
العلم سے ٹکرا کے جہالت میں نہ پڑنا
ممکن نہیں بندوں کا خداوند سے لڑنا

یہ دشت یہ پانی یہ زمینیں یہ غِذائیں
سانسوں کا حسیں رزق یہ مہیمیز ہوائیں
سورج کی تپش، چاند کی پُرکیف ادائیں
محروم رہو ، ہم سے اگر اذن نہ پائیں
معلوم ہے سب کچھ تمہیں کیوں ڈال رہے ہیں؟؟
ہر قوم کو اِک حُر کے لیے پال رہے ہیں!!!!

بے شِیر کا ماتَم جہاں جس وقت بَپا ہو
پہلے سے خواتین میں جھولا بھی پڑا ہو
کچھ دودھ ہو، کچھ آب ہو، کچھ اس کے سوا ہو
شاید کہ یہ صدیوں کے پیاسے کی غِذا ہو
آتی ہے سکینہ کی صدا زخم مِٹا دو
زخمی ہے ،پیاسا ہے، اِسے اشک پِلا دو

( شوکت رضا شوکت)