์Nabi hay aasra kul jahan da
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

نبیؐ ہے آسْرا کُل جہان دا 
نبیؐ دا آسْرا ہے ماں حسینؑ دی 
خدیجہؑ  آمنہؑ تے حوّاؑ  آسیاؑ 
انہاں دی پیشوا ہے ماں حسینؑ دی 

مریم وی اے جانڑدی اے ، جینوں رب چا ودھاوے 
جیبریلؑ جیندے بوھے تے ، بِن پچھاں نہ جاوے 
خاتون کوئی ، ایہو جئے سینڑ دی ، کیویں ہمسر بنے 
جیندے قدم اُتے ، رکھے حسینؑ سَر 
او صاحبِ حیا ہے ماں حسینؑ دی 

شاہ ھست زہراؑ دا لال اے ، اپنی ماں دی وجہ توں
دینِ پناہ بے مثال اے ، اپنی ماں دی وجہ توں
پُچھ تاں سہی ، شان میرے جئے ، خاکی بندیاں کولوں
حجاب مصطفیٰؐ ، اعزازِ مرتضیٰؑ
نمازِ انبیاء ہے ماں حسینؑ دی 

--------------------------------- 
نبیؐ ہے آسْرا کُل جہان کا 
نبی کا آسْرا ہے ماں حسینؑ کی 
خدیجہؑ  آمنہؑ اور حوّاؑ  آسیاؑ
سبھی کی پیشوا ہے ماں حسینؑ کی 

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ 
خدا نے خود کہا ، اے میرے مصطفیٰؐ 
حیا کا ہے قرآن ماں حسینؑ کی 
علیؑ ایمان ہے ، زمانے کا اگر 
علیؑ کا ہے ایمان ماں حسینؑ کی 
نبیؐ ہے آسْرا کُل جہاں کا
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ 

مریمؑ بھی یہ جانتی ہے ، جسے رب دے فضیلت 
جبریلؑ بھی جس كے دَر پر ، آئے نہ بن اِجازَت 
خاتون کوئی ، میری بی بیؑ تیری ، کیسے ہمسر بنے 
رکھے قدموں پہ سَر ، حسینؑ سا پسر 
وہ صاحبِ حیا ہے ماں حسینؑ کی 
نبیؐ ہے آسْرا کُل جہاں کا

شاہ است زہراؑ کا لال ہے ، اپنی ماں کی وجہ سے 
دینِ پناہ بے مثال ہے ، اپنی ماں کی وجہ سے 
پوچھے تو سہی ، شان میرے جیسے ، خاکی نا چیز سے 
حجاب مصطفیٰؐ ، اعزاز مرتضیٰؑ
نماز انبیاء ہے ماں حسینؑ کی 
نبیؐ ہے آسْرا کُل جہاں کا

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ 
عرشوں پہ رب نے کرایا ، جو تعارف کساء کا 
دو بیٹے ہیں اور ساتھ شوہر ، اور ہے اِس کا بابا 
اک میں خدا ، دوجا ہے مصطفیٰؐ ، اور علی مرتضیٰؑ 
حسنِ مجتبیٰؑ ، حسینؑ بادشاہ 
بنی امُّ الکساء ہے ماں حسینؑ کی 
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ 

نطہیر ہر وقت پڑھتی ، بی بی زہراؑ کا کلمہ 
قسمت بھی کرتی ہے ہر پل ، بی بی زہراؑ کو سجدہ 
توحید ہے ، اور رسالت بھی ہے ، اور امامت بھی ہے 
یہ میرا خُمس ہے ، یہ ہے روزہ مِرا 
نماز اور اذاں ہے ماں حسینؑ کی 


= = = = = = = = = = = = = = = = = = = = =
خدا خود آخیا ، اے میرے مصطفی 
حیا دا ہے قرآن ماں حسینؑ دی 
الی ایمان ہے زمانے دا اگر 
الی دا ہے ایمان ماں حسینؑ دی 

معراج کیتے اے سوہنا ، جدان تینوں بلایا 
گلاں کرن واسطے مئى ، تینڈا ویران منگایا 
ہو ہو ھو - سچ سچ دسا ، جائے مئى خود بولدا ، طے نئی ریحندا خدا 
الی بنیا اگر ، اٹھان میری زُبان 
الی دی ہے زُبان ، ماں حسینؑ دی 

فرمایا رب نے محمد ، سن سوہنی اے گال ہے 
آج وچ مبایلے دے لے جا ، تو زہرہ نوں نال ہے 
ہو ہو ہوووو ، تیری قسم ، اے ہے معدہ بھرم ، مئى ہے آئِنْدَہ بھرم 
جائے میرے واسطے ، طے تیرے واسطے 
فتح دا ہے نشان ، ماں حسینؑ دی 

تطیہر ہر وایلے پڑھدی ، میدی زہرہ دا كلام 
قسمت وی کردی ہے ہر پل ، میدی زہرہ نوں سجدہ 
ہو ہو ھو - توحید ہے ، طے رسالت وی ہے ، طے امامت وی ہے 
اے میرا خمس ہے ، تے ہے روزہ مینڈا 
نماز تے اَذان ہے ماں حسینؑ دی 

عرشاں تے رب نے کرایا جو تعارف کساء دا 
دو بچڑے تے اک ہے شوہر تے ہے اک آئِنْدَہ بابا 
ہو ہو ھو - اک میں خدا ، دوجا ہے مسطفیٰؐ ، تے علی مرتضیٰؑ 
حسن مجتبی ، حسین بادشاہ 
ایناں دی ہے پہچان ماں حسینؑ دی 

جس دن ہے آیا حسین اے ، رووندا ریا مایندی سائن اے 
چوم چوم كے بچرای دی گردن ، بی بی کییتے نے وین اے 
وا غربتا ، واہ وا غربتا ، کایندی ریا سعیدہ 
جہاں طے بن گئی ، ہے پہلی ذاكرہ 
طے پہلی نوحہ خوان ماں حسینؑ دی 

امام زمانہؑ کی غیبت کے بعد کا زمانہ ہے۔
بادشاہِ وقت علماء سے شغف رکھتا تھا
پوچھا مریم افضل یا جنابِ زہراؑ

یامریمُ انّ اللہَ اصطفکِ و طھّرکِ
اور دوسرا سورہ مریم ہے قرآن میں

کہا میری نگاہ میں مریم کو زہراؑ سے وہی نسبت ہے جو زمین کو آسمان سے ہے۔
کہا دلیل دے ورنہ سر قلم کر دیا جائے گا
 مریم کے لئے ایک مرتبہ لفظ آیا طھرکِ - جنابِ سیدہؑ کے لئے دو مرتبہ کہا - یطھرکم تطھیرا
شہزادی کے لئے دو سورتیں آئیں - دو سویتں آئیں - سورہ ھل اتا (سورہ دھر) اور سورہ کوثر
اب تُو فیصلہ کر کہ کون افضل

مریم ذاتی زندگی میں گئیں اور وہاں فرشتے نے آ کر پیغام دیا
جنابِ زہراؑ کساؑ میں ہیں - فرشتے کی ہمت نہیں کہ اجازت کے بغیر چلا جائے

مریم کا ایک بیٹا معصوم - یہاں معصوموں کی پوری نسل۔
مریم کے کسی بیٹے کو شہادت نصیب نہیں ہوئی
جناب زہرا کی پوری نسل میں شہادت ہے

فاطمہ کا بیٹا آئے گا - مرہم کا بیٹا بھی آئے گا
نماز
سجدہ
سر اور پیر