Allah hu Allah hu
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو
اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

چاند تاروں کی شان جمالی تو
سبز پتوں میں پھولوں کی لالی میں تو
خوشے خوشے میں تو بالی بالی میں تو
ٹہنی ٹہنی میں تو ڈالی ڈالی میں تو
بوٹے بوٹے میں گل ‘ گل میں بو ‘ بو میں تو

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو
اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

سبز پوشان گلشن سر آب جو
نرگس و نسترن ‘ یاسمن ‘ ناز بو
مشک بیزان دشت ختن چارسو
طائران چمن خوش نوا ‘ خوش گلو
کہتے ہیں آب شبنم سے کرکے وضو

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو
اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

یوں تو ہر اک نبی تجھ سے منسوب ہے
تیرا بھیجا ہوا ہے بہت خوب ہے
ہاں مگر ان میں اک تیرا محبوب ہے
جس کی ہر اک ادا تجھ کو مرغوب ہے
تیرا محبوب وہ اس کا محبوب تو

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو
اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

دخل ممکن نہیں تیرے اسرار میں
کس کو یارا بھلا تیری سرکار میں
کس کو تاب سخن تیرے دربار میں
حسن یوسف تو بک جاۓ بازار میں
اور نفس نبیۖ کا خریدار تو

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو
اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

دید کس کو میسر تری ذات کی
لاکھ موسی نے تجھ سے مناجات کی
پھر بھی تو نے نہ ان سے ملاقات کی
چھپ کے پردے میں کی جب کبھی بات کی
اور محمدۖ سے کی دوبدو گفتگو

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو
اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

گفتگو کب خدائ کے لہجے میں تھی
کب بھلا کبریائ کے لہجے میں تھی
کب تکبّر بڑائ کے لہجے میں تھی
یاں تو ہر بات بھائ کے لہجے میں تھی
آرہی تھی نبیۖ کو اخوت کی بو

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو
اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

تھی محمدۖ کو حیرت یہ کیا راز ہے
یاں تو کوئ نہ یار اور نہ دمساز ہے
پھر یہ ہے کون یہ کس کی آواز ہے
یہ تو کچھ میرے بھائ کا انداز ہے
اے خدا سچ بتا یہ علی ہیں کہ تو

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو
اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

کیا علی ہم سے پہلے یہاں آگۓ
توڑ کر سب حدود و مکاں آگۓ
یا مرے ساتھ ہی مثل جاں آگۓ
چھوڑ آۓ کہاں تھے ‘ کہاں آگۓ
اللہ اللہ علی میں ہے اتنا علو

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو
اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

جبرئیل اپنے پر دیکھتے رہ گۓ
شان سیر بشر دیکھتے رہ گۓ
گرد راہ سفر دیکھتے رہ گۓ
تابہ حدّ نظر دیکھتے رہ گۓ
اور محمدۖ روانہ ہوۓ سوۓ ھو

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو
اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

ہر فضیلت محمدۖ کے گھر بھیج دی
تھی جو شے خوب سے خوبتر بھیج دی
ان کے بھائ کو تیغ دوسر بھیج دی
اور ملک سے پھر اس کی خبر بھیج دی
لافتی کی صدا اب بھی ہے چار سو

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو
اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

اللہ اللہ تری ذات عزّوجل
شرک پر تھے جو صدیوں سے اپنے اٹل
جن کا نعرہ احد میں تھا اعلی ہبل
دیکھ کر تیغ حیدر گرے منہ کے بل
اور کہنے لگے خوف سے حیلہ جو

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو
اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

جن کو اپنے بزرگوں سے پستی ملی
علم و عرفان کی فاقہ مستی ملی
دین و ایمان کی تنگ دستی ملی
اپنے اجداد سے بت پرستی ملی
ان کی محفل میں بھی آج ہے چار سو

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو
اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو