Dil se juda kabhi gham e Mola nahi kia
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

دِل سے جدا کبھی غم مولا نہیں کیا 
اے ماں تمہارے شِیر کو رسوا نہیں کیا 

غم کھا كے اشک پہ كے گزارا کیا مگر 
ہَم نے کبھی ضمیر کا سودا نہیں کیا 

گر مانگ لیتے بھیک میں دے دیتی سیدہؑ
تم نے فدک کو چھین كے اچھا نہیں کیا 

تم ان پر کر رہے ہو بھروسہ عجیب ہو 
جن پر کبھی نبیؐ نے بھروسہ نہیں کیا 

غدار تھا غدیر کا جس نے رسولؐ سے 
کرنے کو وعدہ کر لیا پُورا نہیں کیا 

موجوں کی خنکی پاس نہ آ جائے اِس لیے 
اصغرؑ نے اپنا رخ سوئے دریا نہیں کیا 

ہیبت سے صرف فوجِ ستم بھاگنے لگی 
عباسؑ نے ابھی کوئی حملہ نہیں کیا 

بھاگا سے میدان چھوڑ کر 
اس کا علیؑ كے شیر نے پیچھا نہیں کیا 

نا آشنا ہے مقصد سرورؑ سے وہ ظفر 
آباد جس نے اپنا مصلہ نہیں کیا