Na poochiye ke kia Hussain(as) hay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

نہ پوچھیے کہ کیا حسینؑ ہے
نہ پوچھیے کہ کیا حسینؑ ہے

خدا کے دیں کا ناخدا ہر ابتداء کی ابتداء
کرم کی انتہا حسینؑ ہے ‘ کیا حسینؑ ہے

کرے جو کوئ ہمسری کسی کی کیا مجال ہے
جہاں میں ہر لحاظ سے حسینؑ بے مثال ہے
یہ ہو چکا ہے فیصلہ نہ کوئ دوسرا خدا
نہ کوئ دوسرا حسینؑ ہے کیا حسینؑ ہے

ہے جس کی فکر کربلا حسینؑ وہ دماغ ہے
یہ پنجتن کی انجمن کا پانچواں چراغ ہے
حسن کا پہلا ہمسفر علی کا دوسرا پسر
امام تیسرا حسینؑ ہے ‘ کیا حسینؑ ہے

اسـیر شــام پر نگــاہ کی تو حر بنا دیا
جو مر رہے تھے ان کو زندگی کا گرسکھادیا
حسینؑ ہے حیات گر حسینؑ عظمتوں کا گھر
عظیم رہنما حسینؑ ہے ‘ کیا حسینؑ ہے

کرو کے گر مخالفت غم حسینؑ کی یہاں
وہ حشر ہوگا حشر میں کہ الحفیظ و الماں
جہاں بھی چھپنے جاؤ گے کہیں پہ بچ نہ پاؤ گے
کہ ہر جگہ میرا حسینؑ ہے ‘ کیا حسینؑ ہے

میان دشت نینوا الٹنے فوج اشقیا
بڑھا جو شاہ کربلا اٹھا کہ تیغ لافتی
لگی جو سر اتارنے کہا یہ ذوالفقار نے
غضب کا سورما حسینؑ ہے ‘ کیا حسینؑ ہے

شہید کربلا کا غم جسے بھی ناگوار ہے
وہ بدعمل ہے بد نصب اسی پہ بےشمار ہے
ارے او دشمن عزا تو مر ذرا لحد میں جا
پتا چلے گا کیا حسینؑ ہے ‘ کیا حسینؑ ہے

قضا کے بعد پھر مجھے نئی حیات مل گئ
فشار سے عذاب سے مجھے نجات مل گئ
سوال جب کیا گيا ہے کون تیرا رہنما
تو میں نے کہہ دیا حسینؑ ہے ‘ کیا حسینؑ ہے

ہدایت حسینؑ پر عمل کرو حسینؑیو
رہے گيں ہم بہشت میں یقیں رکھو حسینؑیو
قبول ہوگی ہر دعا کسی سے کیوں ڈریں بھلا
ہمارا واسطہ حسینؑ ہے ‘ کیا حسینؑ ہے

سرور گوہر ہنر ہوا یہ خواب دیکھ کر
سجے ہوۓ ہیں خلد میں تمام مومنوں کے گھر
نشاں غم ہے جلوہ گر ہر آدمی کے سینے پر
ہر ایک لب پہ یاحسینؑ ہے ‘ کیا حسینؑ ہے

نہ پوچھیے کہ کیا حسینؑ ہے
نہ پوچھیے کہ کیا حسینؑ ہے