Manazra
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

دوستوں آؤ سناؤں تم کو میں اک واقعہ
ایک دن مجلس سے اپنے گھر کی جانب میں چلا
راستے میں سامنا واعظ سے میرا ہوگیا
حسب عادت طنزیہ لہجے میں وہ کہنے لگا
شرک ہے غیر خدا پر اشک برسانا سنو
میں یہ بولا بات اب میری بھی مولانا سنو

آدمؑ و حواؑ کا کیا بیٹے پہ رونا شرک تھا
حضرت یعقوبؑ نے یوسفؑ پہ کیوں گریہ کیا
تُو اگر ہے امتـّی سرکار کا تو یہ بتا
حضرت حمزہؑ پہ کیوں روۓ محمد مصطفیۖ
یا تو اب سرکارۖ سے تو اپنا رشتہ توڑ دے
یا عزاداروں پہ واعظ طنز کرنا چھوڑ دے

کاٹ کر پھر بات میری یہ کیا اس نے سوال
کیوں مدد حیدر سے لیتے ہو بجاۓ ذوالجلال
میں یہ بولا اپنی بوسیدہ کتابیں تو کھنگال
ان میں مل جاۓ گی تجھ کو جنگ خیبر کی مثال
تجھ پہ ہوجاۓ گا ثابت بحث یہ بیکار ہے
نعرہ حیدر لگانا سنت سرکارؐ ہے

باتوں باتوں میں جہالت اس کی جب کھلنے لگی
بڑھتے بڑھتے بات ذکر کربلا تک آگئ
وہ یہ بولا کربلا تو جنگ شہزادوں کی تھی
میں یہ بولا کربلا ہے زندگی اسلام کی
تیرے شہزادے سے بڑھ کر یوں میرا شبیرؑ ہے
وہ سراپا رجس ہے یہ وارث تطہیر ہے

منہ بنا کر تلملا کر پھر چلی اس کی زبان
تو ہے مولائ تو حیدرؑ کے فضائل کر بیان
میں یہ بولا اس قدر برداشت ہے تجھ میں کہاں
سوچ لے دل پر تیرے گرنے لگیں گی بجلیاں
تیری صحت کے لیے کافی ہے یہ غیبی پکار
لافـتـــی الاّ عـلـــی لا سـیـف الاّ ذوالـفـقـــــار

بات ایمان ابوطالبؑ کی اس نے چھیڑ دی
کفر پر اس کے مطابق گزری ان کی زندگی
میں یہ بولا پھر تو یہ توہین ہے اللہ کی
پرورش کافر کے گھر سرکارۖ کی ہوتی رہی
عقد پیغمبرؑ پڑھا جس نے وہ انساں کون ہے
گر ابوطالبؑ ہیں کافر پھر مسلماں کون ہے

پڑھ کے وہ لاحول آخر خود ہی غائب ہوگيا
پھر مجھے روتا ہوا میدان محشر میں ملا
مسکرا کر میں نے پوچھا خیر تو ہے کیا ہوا
آہ بھر کر وہ یہ بولا ہاۓ میں مارا گيا
اب یقیں آیا غم سرورؑ میں رونا ٹھیک تھا
مانتا ہوں میں تکلّم تیرا کہنا ٹھیک تھا