Mout ki aaghosh may thak kar jo so jati hay maa
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں
تب کہیں جا کر رضا تھوڑا سکوں پانی ہے ماں

فکر میں بچوں کی کچھ اس طرح گھل جاتی ہے ماں
نوجواں ہوتے ہوۓ بوڑھی نظر آتی ہے ماں

اپنے پہلو میں لٹا کر روز طوطے کی طرح
ایک بارہ پانچ چودہ ہم کو رٹواتی ہے ماں

گھر سے جب پردیس جاتا ہے کوئ نور نظر
ہاتھ میں قرآن لے کر در پہ آجاتی ہے ماں

چاہے ہم خوشیوں میں ماں کو بھول جائيں دوستوں
جب مصیبت سر پہ پڑتی ہے تو یاد آتی ہے ماں

یاد آتا ہے شب عاشور کا کڑیل جواں
جب کبھی الجھی ہوئ زلفوں کو سلجھاتی ہے ماں

جب تلک یہ ہاتھ ہيں ہمشیر بے پردہ نہ ہو
اک بہادر باوفا بیٹے سے فرماتی ہے ماں

پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے
کوئ ان بچوں سے پوچھے جن کی مرجاتی ہے ماں

اپنے غم کو بھول کر روتے ہیں جو شبیر کو
ان کے اشکوں کے لیے جنت سے آجاتی ہے ماں

شکریہ ہو ہی نہیں سکتا کبھی ماں کا ادا
مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں