Jab Khuda ko pukara Ali(as) aa gaye
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

مومنوں کو مبارک علی آگۓ
جب علی آگۓ زندگی آگئ
زندگی بندگی روشنی آگئ
روشنی آگئ روشنی آگئ

موت تیرے محبوں کو آتی نہیں
آ بھی جاۓ تو پھر بچ کے جاتی نہیں
موت کا کیا خطر ‘ موت سے کیا ہے ڈر
اس سے بچنا بھی کیا آگئ آگئ

غسل میت نہ کہنا میرے غسل کو
اجل ملبوس کو مت کفن نام دو
میں چلا ہوں علی سے ملاقات کو
جس کی تھی آرزو وہ گھڑی آگئ

جس کا مولا تھا میں اس کا مولا علی
جب نبی نے کہا دین کامل ہوا
مرحبا مصطفیۖ رب بھی راضی ہوا
وہ جو آنا تھی آیت وہی آگئ

جبرائيل اور قنبر پر کیا منحصر
در تیرا چھوڑ کر کوئی جاتا ہی نہيں
جو غلامی کا تیری مزہ پا گيا
راس جس کو تیری نوکری آگئ

مسلک عشق میں مانگنا عیب ہے
میں بھی خاموش ہوں وہ بھی خاموش ہیں
ان کو سب ہے خبر اس لیے چپ ہوں میں
کیا ہوا آنکھ میں گر نمی آگئ

خمس دینا مودّت کی اک شرط ہے
اور نہ دینا بھی مثل فدک ہے گناہ
حق سادات و زہرا کے مقروض سے
جب تبّـرا سنا تو ہنسی آگئ

تیری مسند پہ غیروں کو بٹھلا دیا
نائب مصطفیۖ مظہر کبریا
تو علی و وصی و علی ہی رہا
منزلت میں تیری کیا کمی آگئ

ہم کے سرشار عشق اور تولّا میں تھے
جانتے ہی نہ تھے نفرت و دشمنی
یہ تبّرا بھی واللہ کیا چیز ہے
ہم کو اغیار سے دشمنی آگئ

عشق جب تک نہ ہو شعر ہوتا نہیں
مجھ میں کب اہلیت تھی تیری مداح کی
میرے مولا میں قربان تیرے عشق کہ
سبط جعفر کو بھی شاعری آگئ