Ik nusehri ne baray pyar se kal mujh se kaha
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

ایک نصیری نے بڑے پیار سے کل مجھ سے کہا
تو بھی نایاب نصیری ہوجا

لفظ مولا کے تکلّف میں نا پڑ کہہ دے خدا
تو بھی نایاب نصیری ہوجا

پھر وہ یوں کہنے لگا بیٹھ میں سمجھاتا ہوں
حیدری وصف کے صفحے تجھے گنواتا ہوں
ڈوبے سورج کا پلٹ آنا ہے پہلا صفحہ
تو بھی نایاب نصیری ہوجا

دوسرے صفحے پہ لکھا ہے با عنوان جلی
زندگی اور اجل دونوں پر قادر ہے علی
بات سچی ہے تو پھر مان لے کہنا میرا
تو بھی نایاب نصیری ہوجا

میرے معبود نے گوندھا ہے خمیر آدم
اس کی مرضی سے ہی چلتا ہے نظام عالم
شعبہ رزق کا مالک بھی ہے میرا ہی خدا
تو بھی نایاب نصیری ہوجا

اپنی ٹھوکر سے جو کردیتا ہے مردے زندہ
شب معراج جو تھا پردہ کے پیچھے گویا
کون سے منہ سے اسے کہتے ہیں بندے بندہ
تو بھی نایاب نصیری ہوجا

جو یہ کہتے ہیں خدا کی ہمیں پہچان نہیں
خود ہيں دھوکے میں علی کا انہیں عرفان نہیں
اور سمجھتے ہیں نصیری کو ہوا ہے دھوکہ
تو بھی نایاب نصیری ہوجا

جب وہ خاموش ہوا میں نے جوابا یہ کہا
تو بھی میری طرح شیعہ ہوجا
مان لے بات میری مجھ کو نصیری نہ بنا
تو بھی میری طرح شیعہ ہوجا

تو یہ کہتا ہے کہ سورج کو بلایا کس نے
میں یہ کہتا ہوں کہ سورج کو بنایا کس نے
جس نے سورج کو بنایا ہے وہی ہوگا خدا
تو بھی میری طرح شیعہ ہوجا

پھر کہا میں نے کہ تو ہے ابھی ناواقف راز
تو نے دیکھی نہيں پڑھتے ہوۓ حیدر کو نماز
وہ خدا تھا تو پھر اس نے کیا کس کا سجدہ
تو بھی میری طرح شیعہ ہوجا

فہم و ادراک کے بکھرے ہوۓ چن لے موتی
چھوٹے بچوں کی طرح ضد نہیں اچھی ہوتی
حق کو پہچان علی مولا کرے تیرا بھلا
تو بھی میری طرح شیعہ ہوجا

میری نایاب دلیلوں پہ بھی وہ چپ ہی رہا
اس کی ہٹ دھرمی پہ آخر مجھے کہنا ہی پڑا
اس سے پہلے کہ تو ہوجاۓ گرفتار بلا
تو بھی میری طرح شیعہ ہوجا