Qataat - Imam Hasan(as)
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

72 ٹکڑے
شجاعت کا یہیں پر جوہر تقدیر رہتا ہے 
اِس خیمے میں عزم شاہ خیبر گیر رہتا ہے 
گرے جب طشت میں ٹکڑے تو یہ عقدہ کھلا مجھ پر 
کلیجے میں حسنؑ كے لشکر شبیرؑ رہتا ہے 

------------------------------------------- 
15رمضان ، 3 ھجری مدینے كے سب سے مقدس مکان میں 
 ظہر كی نماز كے فوراً بَعْد 
بتول كے رحلتِ عصمت سے 
امامت کا دوسرا قرآن 
حسنؑ بن كے نازل ہوا 

مسلمانوں کی اماں فرماتی ہیں 
بتول نے ظہر کی نماز اکیلے پڑھی ہے 
عصر ماں بیٹے نے اکھٹے پڑھی ہے 

حسنؑ رسولؐ كے ھاتھوں پہ آئے 

خودی كے سارے دکھوں کا علاج دیکھا ہے 
احد كے امر سے وحدت مزاج دیکھا ہے 
فلک سے اترا ہے اِک آئینہ محمدؐ کا 
نبیؐ نے خود کو بھی جی بھر كے آج دیکھا ہے 

نزول ابن حیدر كے یہ کیفیات ملی لوگوں 
خدا کی شان ہے كے وہ خدا کی شان پڑھتا تھا 
یہی امِ ابیھا نے بتایا امِ ایمن کو 
حسنؑ کو میں ہی پڑھتی تھی حسنؑ قرآن پڑھتا تھا 

ہمت ہے کسی میں تو کوئی آنکھ اٹھائے 
ہے شوق لڑائی کا جسے سامنے آئے 
لڑنا تو بہت دور ہے بس نین ملائے 
ہمت ہے کسی میں تو کوئی ہل كے دکھائے 
مٹی تمہیں کھا جائے اگر کر دون اشارہ
مالک ہے جو مٹی کا وہ بابا ہے ہمارا 

----------------------------------------
اتنی شفاف شبیہہ اور تو ممکن ہی نہیں 
غور کیجئے تو محمدؐ کا بدل لگتا ہے 
ح) کو پِھر (س) کو پِھر (ن) کو لکھو تو سہی 
حسن کا حُسن یہی ہے كہ حسنؑ لگتا ہے 

------------------------------------- 
خدا كے حکم سے اپنے امام بڑے ہیں 
رئیس کوئی بھی یوں گل بدن كے بعد نہیں 
امیر لفظ سجا صرف باپ بیٹے کو 
علیؑ سے قبل نہیں تھا حسنؑ كے بعد نہیں 

------------------------------------ 
پہچان رسالت کی ہے گھر میرے علیؑ کا 
ممکن ہی نہیں ان كے سوا فصلِ محمدؑ 
آغوش میں زہراؑ کی حسنؑ کھیل رہے ہیں 
اِک نسل محمدؐ ہے تو اک اصل محمدؐ 

--------------------------------------
بس فقط اتنا نہیں كے آپ ہی معصوم ہیں 
میرے مولا كے قلم کی چاپ بھی معصوم ہے 
پہلا بیٹا ہے میرا مولا حسن دارین میں 
ماں بھی معصومہ ہے جس کی باپ بھی معصوم ہے 

------------------------------------------
حوالہ یاد نہیں ہے کتاب سوچنے دو 
کہاں سے پوچھ رہے ہو نساب سوچنے دو 
علیؑ کی عمرِ علی میں کوئی سوال تو لا 
كہ جب علیؑ نے کہا ہو جواب سوچنے دو 

---------------------------------------- 
ایک شخص آیا شام سے امام علیؑ سے سوال کرنے - معاویہ کا آدمی تھا
امام علیؑ نے کہا كے میں مصروف ہوں وہ سامنے 
میرے دونوں بیٹے ہیں . جس سے مرضی چاھے پوچھ لے
ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا كے بچوں سے کیا پوچھوں 
كہ امام حسن نے اس كے شانو پہ ہاتھ رکھ كے کہا 

شریعتوں کا مکمل نصاب لیتا جا 
ضعیف ڈھونڈ كے لا اور شباب لیتا جا 
غلام زادہ نہیں میں امام زدہ ہوں 
سوال ذہن میں رکھ اور جواب لیتا جا 

 
اس نے 4 سوال کئے امام حسن سے 
1 . مشرق اور مغرب میں کتنا فاصلہ ہے 
ایک دن کی سورج کی مسافت کا 
2 . حق اور باطل میں کتنا فرق ہے 
 چار انگلیوں کا - آنکھ سے دیکھا حق اور کان سے سنا باطل ہے 
3 . زمین اور آسمان میں کتنی دوری ہے 
جے - اتنی كے مظلوم کی آہ جاتی ہے 
4 . دنیا میں سخت ترین چیز کیا ہے 
جے - پتھر ، لوہا ، آگ ، پانی ، بادل ، ہوا ،  ہوا کا فرشتہ ، جبریل ، ملك الموت ، موت اور پِھر.. 

جو دھر میں پھیلا ہے وہی نورِ جلی ہے
دارین میں ہے جس کا تصرف وہ ولی ہے 
وہ موت ہے جو ہو ملک الموت پہ قابص 
جو موت کو مارے وہ میرا بابا علیؑ ہے 

------------------------------------
دارین میں بس امن کا سلطان حسنؑ ہے 
ہر حُسن کی تخلیق کا سامان حسنؑ ہے 
بندے یہ سمجھتے ہیں كے انسان حسنؑ ہے 
رحمان كے فرمان میں قرآن حسنؑ ہے 
کیا مرتبہ سمجھے کوئی اِس پاك ولی کا 
حد ہو گئی مولا ہے حسین ابن علیؑ کا 

-------------------------------------

حسن کو بادشہہ خاص و عام کہتے ہیں 
رسول پاکؐ کا قائم مقام کہتے ہیں 
دلیل ایک ہی کافی ہے انکی عظمت کی 
انہیں حسینؑ بھی اپنا امام کہتے ہیں 

-----------------------------------
جلوہ دکھا كے ضیغمِ پروردگار کا 
خاموشیوں میں رنگ بھرا کارزار کا 
توڑے ہیں تیری صلح نے باطل كے حوصلے 
تو نے قلم سے کام لیا ذوالفقار کا 

-----------------------------------
یہ نہ کہنا مجھے وقت نے مجبور کیا 
میرے کردار نے باطل کا بھرم چور کیا 
بعد میں صلح ہوئی پہلے میرے دشمن نے 
میری رکھی ہوئی ہر شرط کو منظور کیا 

--------------------------------
فوگِ افکارِ ستم پر صلح کی یلغار ہے 
جنگ کا میداں ہے کاغذ اور قلم تلوار ہے 
لشکر الفاظ کا پھیلا كے کہتے تھے حسنؑ
صلح کی شرتوں كے پیچھے کربلا تیار ہے 

----------------------------------
مرسلِ حق نے رسالوں کا بھرم تھام لیا 
دینِ اسلام کا حیدرؑ نے علم تھام لیا 
بعد احمدؐ و علیؑ دیں کی حفاظت كے لیے 
تیغ شبیرؑ نے شبرؑ نے قلم تھام لیا 

-----------------------------------
ٹھکرا كے چل دیئے اِس بانکپن كے ساتھ 
شاہی لپٹتی رہ گئی پائے حسنؑ كے ساتھ 
لوگوں امیرِ شام کجا اور حسنؑ کجا 
بُت کا مقابلہ نہ کرو بُت شکن كے ساتھ 
عرفاں وہ دَر بدر کا بھکاری نہیں بنا 
منسوب ہو گیا جو درِ پنجتنؑ كے ساتھ 

--------------------------------------
تصور جس کا ہر دم روز و شب شام و سحر آیا 
نگاہیں ڈھونڈتی ہیں جس کو وہ نورِ نظر آیا 
نبوت اور امامت منتظر تھی دید کی جس کی 
ریاضِ فاطمہؑ میں آج وہ پہلا ثمر آیا 

---------------------------------------
علیؑ كے گھر کی طرف ہے نظر زمانے کی 
خبر جو پائی ہے مولا حسنؑ كے آنے کی 
ؑمرید ہو گئی شبرؑ کی ذوالفقارِ علی 
ادائیں دیکھی ہیں جب سے قلم چلانے کی 

------------------------------------ 
اپنے وجود ذات میں بےجان ہے قلم 
محتاج حرکتِ یدِ انسان ہے قلم 
گر دستِ کفر میں ہو تو شیطان ہے قلم 
دستِ نفاق میں ابو سفیان ہے قلم 
لیکن یہی قلم رگ احساس ہو گیا 
آ کر حسن كے ہاتھ میں عباسؑ ہو گیا