Mujh ko sanso ki nahi teri zaroorat hay Hussain
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

زندگی مانے نہ مانے یہ حقیقت ہے حسینؑ
مجھ کو سانسوں کی نہیں تیری ضرورت ہے

جب تلک مجھ کو تیرے ماتم کی عادت ہے حسینؑ
تب تلک یہ ہاتھ یہ شینہ سلامت ہے حسینؑ

عاشقوں پر بھی کریمی دشمنوں پر بھی کرم
ہو بہو تیری خدا جیسی طبیعت ہے حسینؑ

عرش والے فرش والوں سے بھلا ملتے کہاں
آپ کی مجلس میں ہی بس یہ سہولت یے حسینؑ

خانئہ کعبہ میں بھی مر جائے وہ ہے دوزخی
جس کو تیرے نام سے تجھ سے عداوت ہے حسینؑ

دیکھتا ہے سر اٹھا کر خانئہ کعبہ اُسے
بچپنے میں یہ تیرے اصغرؑ کی قامت ہے حسینؑ

غور سے واعظ کو دیکھا تو سمجھ میں آ گیا
آج بھی دشمن تیرا زیرِ حراست ہے حسینؑ

آنسئوں کا صرف ہو جانا تیرے غم کے بغیر
میری نظروں میں امانت میں خیانت یے حسینؑ

اب خدا جانے کہ کیا طے ہو گی قیمت خلد کی
یہ خدائی تو تیرے سجدے کی قیمت ہے حسینؑ

ہاتھ میں زنجیر ہے ماتم کا نیت ہے حسینؑ
کیا تیرے لشکر میں آنے کی اجازت ہے حسینؑ

اِس لئے کشکول تیرے در پہ میں لاتا نہیں
میری نظروں میں یہ توہینِ سخاوت ہے حسینؑ