Qataat - Hazrat Ali Asghar(as)
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

گلے پر تیر کھا کر اِس لئے روئے نہیں اصغرؑ
کہ سوکھے ہونٹ اشکوں کی نمی سے تر نہ ہو جائیں

-----------------------------------------
نظر لگ جائے نہ مولاؑ
تمہارا لاڈلا ہنستا بہت ہے

-----------------------------------------
کربلا کی فتح کو دو چار زینے اور ہیں
کچھ نگینے آ چکے ہیں کچھ نگینے اور ہیں
حضرتِ شبیرؑ کے آنگن میں اصغرؑ آ گئے
حرملا کی موت میں بس چھ مہینے اور ہیں

-----------------------------------------------
کھلا یہ راز اے اصغرؑ تیری کہانی سے
کہ کمسنی بھی کم نہیں کسی جوانی سے
زمانہ آج تک اُس کا جواب دے نہ سکا
سوال تو نے کیا تھا جو بے زبانی سے

-------------------------------------------
ہاں لشکرِ یزید کے بوڑھوں کو دوستو
ماضی کی ایک شکل دکھائی حسینؑ نے
کر کے بلند ہاتھ پہ اُس دور کا علیؑ
سب کو غدیر یاد دلائی حسینؑ نے

-------------------------------------------
یہ کہہ کے بوسے شہہِ دیں نے با وفا کے لئے
کِھلا ہے پھول مدینے میں کربلا کے لئے
جہاں میں آ کے وہ بِن کھلے چلا بھی گیا
زمیں ترس گئی اصغرؑ کے نقشِ پا کے لئے

-------------------------------------------
اِک بار پڑھ کے دیکھ لے تاریخِ کربلا
چھ ماہ کے صغیر نے کیا کام کر دیا
جتنا دیا ہے خون محمدؐ کے دین کو
اصغرؑ نے ماں کا دودھ بھی اُتنا نہیں پیا

-------------------------------------------
ہر جنگ میں قانون ہے ہتھیار سے لڑنا
خنجر سے کبھی تیر سے تلوار سے لڑنا
آتا ہی نہیں لوگوں کع افکار سے لڑنا
سمجھاؤں گا میں دنیا کو کردار سے لڑنا
   اِس نسل سے ہر نسل کو امداد ملے گی
   ماؤں کو میرے جھولے سے اولاد ملے گی

-------------------------------------------
توحید بھی حیران ہے اِس نصرت دین پر 
معصوم علیؑ دشت میں کیا کرنے چلا ہے 
پاؤں پہ کھڑا ہو نہیں سکتا مگر اصغرؑ
اسلام کو پاؤں پہ کھڑا کرنے چلا ہے 

---------------------------------
سنو! فرات کی لہروں سے آ رہی ہے سدا
علیؑ کے لاڈلے پوتے کی تشنگی کو سلام
نجف کے شاہؑ نے کرب بلا کے شہؑ سے کہا
حسینؑ میں بھی علیؑ ہوں ، تیرے علیؑ کو سلام