Qataat - Imam e Zamana(atfs)
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

یہ سوچ كے پانی پہ بہاتے ہیں عریضے 
جاگیر ہے پانی تو شہنشاہِ وفا کی 
پہنچائے گا منزل پہ عریضوں کو ہمارے 
دریا کو قسم دی ہے سكینہؑ كے چچا کی 

--------------------------------
دِل ربا دِل نواز ہوتی ہے 
جانِ ناز و نیاز ہوتی ہے 
مدحِ مولا میں ڈوب جاتا ہوں 
یوں بھی میری نماز ہوتی ہے 

-------------- 
نظامِ گردشِ دوراں بدلنے والا ہے 
شباب کفر و ضلالت کا ڈھلنے والا ہے 
سیاہی ڈوب رہی ہے اب اس کی آمد پر 
سحر قریب ہے سورج نکلنے والا ہے 

------------------------
اے ماہ شبِ غیبت اے جلوہ جانا ناں
اک بار چلے آؤ پِھر آ كے چلے جانا 
بس آخری حیدرؑ سے یہ آخری خواہش ہے 
جب جان لبوں پر ہو تم سامنے آ جانا 

-------------------------------
آشنائے دلِ احساس بھی لکھ دیتا ہوں
تو سمندر ہے تو میں پیاس بھی لکھ دیتا ہوں
اپنی اوقات کسی طرح نہ بھولیں موجیں
خط پہ اِس واسطے عباسؑ بھی لکھ دیتا ہوں
---------------------------

اُسی کے انتظارِ دید میں بس
یہ سچ ہے آج سے کل ہو رہی ہے
علیؑ کا لعل آئے بھی تو کیسے
ابھی تلوار ثیقل ہو رہی ہے
---------------------------

گر ہو میری حیات میرے اختیار میں 
صدیاں گزار ڈون مئى تیرے انتظار میں 
مولا اب آپ پردہءِ غیبت اٹھائیے 
دو دن تو زندگی كے گزاروں بہار میں 

--------------------------
درود ہے واجب سلام سے پہلے 
سلام فرض ہے جیسے كلام سے پہلے 
یہ ہے مشیتِ حق اور حدیث پیغمبر 
قیامت آ نہ سکے گی امامؑ سے پہلے 

--------------------------
نبی کی آل سے تجھ کو گلہ یہ کتنا ہے 
تو کلمہ گو ہے مگر نا مراد کتنا ہے 
جہادیو ذرا مہدیؑ کو آ تو لینے دو 
پتہ چلے گا كے شوقِ جہاد کتنا ہے 

--------------------------
اِس میں بھی نظر آنے لگا شرک کا پہلو 
اک خط جو لکھا میں نے محبت کی زباں میں
لکھتے تو میاں تم بھی عریضے پہ عریضہ 
وارث جو کوئی ہوتا تمہارا بھی جہاں میں

-------------------------
سوال اجرِ رسالت معاب ھونا ہے 
منافقت کو ابھی بے نقاب ھونا ہے 
علیؑ کا پوتا زمانے میں آنے والا ہے 
ابھی تو باغِ فدک کا حساب ھونا ہے 

-------------------------
انوار جس كے ہوتے ہیں پردے سے آشکار 
ہر اِک محب اسی کی ہے فرقت میں بے قرار 
کل منتظر رسولؐ تھے اول امامؑ كے 
ہَم آخری امام کا کرتے ہیں انتظار 

-------------------------
درود زندہ ہے اپنا سلام زندہ ہے 
خدا كے بعد محمدؐ کا نام زندہ ہے 
کسی كے پاس تو مردہ بھی اب نہیں کوئی 
ہمیں ہے فخر ہمارا امام زندہ ہے 

--------------------------
عبادتوں کا میری انتظام ہو جائے
عقیدتوں کا بھی کچھ اہتمام ہو جائے
بھٹک رہے ہو اندھیروں میں روشنی کے لیے
دعا کرو کے ظہور امامؑ ہو جائے

--------------------------
اٹھ جائے کاش چہرے سے پردہ امامؑ کا 
اک ساتھ جلوہ دیکھ لیں بارہ امامؑ کا 

میں چومتا ہوں عریضے کو اِس لیے 
چومے گا جا كے ہاتھ عریضہ امامؑ کا

---------------------------
نظام گردش دوران بدلنے والا ہے 
شباب کفر و ذلالت کا ڈھلنے والا ہے 

سیاہی ڈوب رہی ہے اب اُس کی آمد پر 
سحر قریب ہے سورج نکلنے والا ہے 

---------------------------

اے میری بارھویں سرکار یہ کیا پردہ ہے 
آنکھ دیکھے بھی نہیں قلب سے جاتے بھی نہیں 
سب کی نظروں میں نہیں سب پہ نظر رکھتے ہو 
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں 

ہے انبیاء میں اور اِس میں فرق بہت 
اسی كے دم سے یہ سارا نظام باقی ہے 
نبی کو حکم ہوا ہے نماز قائم کر 
یہ وہ نماز ہے خود جس کا نام قائم ہے 

-----------------------------
سارے انبیاء کی امتوں میں اور ہمارے نبی کی امت 
میں یہ فرق ہے كے انہوں نے کوئی عبادت انجام دی ہے تو ثواب ملا ہے
نماز پڑھی ہے تو ثواب ملا ہے 
روزہ رکھا ہے تو ثواب ملا ہے 
حج کیا ہے تو ثواب ملا ہے 
زکوۃ دی ہے تو ثواب ملا ہے 
میرے نبی کی امت کا حال یہ ہے كے ہمارا سانس لینا 
بھی ثواب ہے - کیوں کیونکہ  و نومنونَ باالغیب پر 
پورے ہی صرف ہَم اُترے ہیں


سن سکو بات تو شیطان کا ہے جرم یہی 
اس نے اعمال کی طاقت پہ ہی اصرار کیا 
اب بارھواں کیسے تمہیں جلوہ دکھائے جب كہ
تم نے پہلے کی ولایت کا ہی انکار کیا 

کعبے کی چھت پہ اُترے گا کائنات کا قبلہ 
پہلے بادشاہ سے یہ طے کیا ہے كہ
میں کعبے میں آ جاتا ہوں تم کعبے پہ آ جانا 


میری امید كے رب روح كے باپ آ جائیں 
من میں محسوس کروں آپ کی چاپ آ جائیں 
دِل کی بھاشاؤں سے واقف ہیں وہ دِل كے مالک 
بس عریضے میں یہ لکھنا ہے كے آپ آ جائیں 

 نیمہءِ شعبان ہے شب برات ہے یا قدر ہے
اپنے اپنے رنگ میں کون و مکاں کی عید ہے 
سامنے آ جائے تو کتنی خوشی ہو کیا خبر 
وہ ابھی پردے میں ہے سارے جہاں کی عید ہے 


--------------------------
؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ 
حکومت آپ کی ہو گی ولایت آپ کی ہو گی 
سنا ہے منتظر ساری قیامت آپ کی ہو گی 
الی سے عسکری تک سب كے سب معصوم ہیں لیکن 
یہ سارے مقتدی ہوں گے امامت آپ کی ہو گی 


 رخِ روشن ہے فضوں شمس و قمر سے 
دنیا اسے ترسا ہی کرے دیدہءِ تر سے 
یہ حُسن بچانا ہے زمانے کی نظر سے 
دشمن نہ کہیں ڈھونڈ نکالے اسے گھر سے 
غائب ہوں تو غائب ہی بنا دیتا ہوں اِس کو 
میں اپنے ہی پردوں میں چھپا لیتا ہوں اِس کو