Qataat - Janab e Zainab(sa)
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

شام اِسرا پہ نظر کی ہے تو پھر عاشور بھی دیکھ 
صرف راتیں ہی نہیں دن بھی بڑے ہوتے ہیں
اِس طرح زینبِؑ دلگیر ہیں سجادؑ كے ساتھ 
جیسے بیمار كے ھاتھوں میں عصا ہوتا ہے

--------------------------------
روحِ وفا ، مزاج حیا ، پیکر حجاب 
وہ جس كے سائے سے بھی گریزاں تھا آفتاب 
لیکن گہن میں دیکھ كے زہراؑ کا ماہتاب 
آیا کچھ اِس طرح سے طبیعت میں انقلاب 
بعد اَز حسینؑ غازیؑ کی عكاس بن گئی 
بنت علیؑ جلال ہے عباسؑ بن گئی
-----------------------------------

گزرتی شب كے یہ لمحے بڑے خوددار ہوتے ہیں 
نزولِ آیۃ تطہیر كے آثار ہوتے ہیں 
جہاں پہ نسب ہو زینبؑ تمہارے ذکر کا خیمہ 
وہاں پہ حضرت عباسؑ پہرے دار ہوتے ہیں 

--------------------------------
چلا جو سلسلہ عشقِ علیؑ کا میری مادر تک 
ملا اک نور کا رستہ مجھے روز محشر تک 
سند تطہیر کی تھی اِس لیے نیزوں سے چینی ہے 
کہاں ممکن تھا پہنچیں ظالموں كے ہاتھ چادر تک 

------------------------------
ملتا نہیں تھا کوئی سہارا یزید کو 
زینبؑ نے اِس طرح سے اجاڑا یزید کو 
عورت تھی جنگ کر نہیں سکتیں تھیں اِس لیے 
خطبوں کی ذوالفقار سے مارا یزید کو