Qataat - Janab-e-Abbas(as)
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

منصب نہیں مانگا کوئی شاہی نہیں مانگی 
خود مل گئی مرضیءِ الہٰی نہیں مانگی 
لاؤ گے کوئی دوسرا عباسؑ کہاں سے 
حیدرؑ نے کوئی اور دعا ہی نہیں مانگی 

-------------------------------
سند یہی ہے كے حرفِ سند کو آتے ہیں 
زمانے بھر کی بلاؤں کی رد کو آتے ہیں 
اک ایسا بابِ حوائج ہے حضرت عباسؑ
اِسے پکاریں تو چودہ مدد کو آتے ہیں
-----------------------------

لہراتا علم دیکھ کے یوں لگتا ہے مجھ کو
جیسےکہ کوئی بابِ مناجات کھلا ہے
دنیا ہے تیرے در کی گدا اِس لئے غازیؑ
دنیا کو خبر ہے کہ تیرا ہاتھ کھلا ہے
-----------------------------
اللہ کی مرضی کے خریدار ہیں حیدرؑ 
پِھر روز نمازوں میں یہ کیا مانگ رہے ہیں 
دنیا کو عطا کرتے ہیں منه مانگی مرادیں 
کیا خاص ہے جو شیرِ خدا مانگ رہے ہیں 
          راہب کو دیے سات پسر بیٹے نے ان كے 
اِک بیٹے کی خاطر یہ دعا مانگ رہے ہیں           

---------------------------------
مثل عباس جہاں میں کوئی جرار نہیں 
جنگ بھی جیت لی اور ہاتھ میں تلوار نہیں 
اب بھی قائم ہے وہ عباسؑ کا کھینچا ہوا خط 
جو یزیدی ہے وہ اُس پار ہے اِس پار نہیں 
          چاھے جنت كے علاقے کو گنو یا نہ گنو 
          میرے مولاؑ سے بڑا کوئی زمیندار نہیں 

---------------------------------
میرے دشمن کو اسی بات سے دشواری ہے 
ہاتھ کٹ کر بھی میرے پاس علمداری ہے 
بس انہیں لائے ہو عباسؑ سے لڑنے كے لیے
اتنے لشکر پہ تو اصغرؑ کی ہنسی بھری ہے 

---------------------------------
عباسؑ کی نگاہ میں کیا فوجِ شام ہے 
عباسؑ مرتضیٰؑ کی جوانی کا نام ہے 
بارہ امام مذہبِ اسلام میں ہوئے 
یہ مذہب وفا کا اکیلا امام ہے 

------------------------------
حیدرؑ پہ مصطفیؐ کی نیابت کو ناز ہے 
سبطینؑ و فاطمہؑ پہ طہارت کو ناز ہے 
عباسؑ کو اگرچہ امامت نہیں ملی 
لیکن یہ وہ ہیں جن پہ امامت کو ناز ہے 

------------------------------
عباسؑ کا عاشق بھی ہوں اور ہوں بھی سلامت
مت سمجھو كے پیمان وفا توڑ دیا ہے 
عباسؑ کی بانہوں کی قسم کرتا جدا میں 
یہ ہاتھ تو ماتم كے لیے چھوڑ دیا ہے 

-----------------------------
غازیؑ نے دو جہان کو اسباب بخش کر 
اسباب تولنے کو ترازو بھی دے دیے
عباسؑ وہ سخی ہے كے جس نے حیات کو 
خیرات دی تو ساتھ میں بازو بھی دے دیے 

-----------------------------
موجِ خود سَر کی طغیانی پہ قبضہ کر لیا 
ایک لافانی نے ہر فانی پہ قبضہ کر لیا 
بارھویں شبیرؑ کی اِس پر بچھے گی جانماز 
اِس لیے عباسؑ نے پانی پہ قبضہ کر لیا 

-----------------------------
عطا کر كے نبیؐ كے خواب کو تعبیر کھیلے گا 
بغیرِ تیغ بھی میدان میں شبیرؑ کھیلے گا 
کیا حملہ نہ غازیؑ نے فقط یہ سوچ کر رن میں 
كہ ان مٹی كے پتلوں سے میرا بے شیر کھیلے گا 

-----------------------------
سند یہی ہے كے حرفِ سند کو آتے ہیں 
زمانے بھر کی بلاؤں کی رد کو آتے ہیں 
اک ایسا باب حوائج ہے حضرتِ عباسؑ 
جسے پکاریں تو چودہ مدد کو آتے ہیں 

----------------------------
خدا كے شیر کا اکلوتا آئینہ عباسؑ 
نہیں ہے کوئی زمانے میں دوسرا عباسؑ 
وہ جس علیؑ نے زمانے کی جھولیاں بھر دیں
بغیر مانگے اسے بھی نہیں ملا عباسؑ 

----------------------------
جس كے دِل میں میرا عباسؑ نہیں آ سکتا 
یہ علم اس کو کبھی راس نہیں آ سکتا 
مدحِ حضرتِ عباسؑ میں مصروف ہوں میں 
ملک الموت میرے پاس نہیں آ سکتا 

----------------------------
حَسِین دن کی حَسِین شب ہے ، حَسِین سلطان آ رہا ہے 
حسینؑ ہے جان مصطفیٰؐ کی ، حسینؑ کی جان آ رہا ہے 
بتول کا گھر وحی کا مرکز ، اور وحی كے مرکز کا حُسن دیکھو 
حیا کا قرآن آ چکا ہے ، وفا کا قرآن آ رہا ہے 

----------------------------
عصر كے ہنگام میں گونجی یہ آوازِ علیؑ
میری غیرت کو میرے احساس کو روکے گا کون 
ہو کہاں جلدی سنبھالوں بازوؤں کو فاطمہؑ
چھن گئی چادر تو پِھر عباسؑ کو روکے گا کون 

----------------------------
یہ معجزہ دکھلائیں گے عباسؑ كے بازو 
دریا کو اٹھا لائیں گے عباسؑ كے بازو 
محشر میں کدھر جائے گا شبیرؑ کا دشمن 
ہر سمت نظر آئیں گے عباسؑ كے بازو 

----------------------------
آئیں گی سرِ حشر انہی شانوں كے سہارے 
کہتے ہیں جسے پیکرِ حساس كے بازو 
یہ سوچ كے خیمے میں اٹھا لے گئے شبیرؑ
اماں کا عصا ہیں میرے عباسؑ كے بازو 

----------------------------
شامیوں کو خص و خاشاک سمجھ کر اُس نے 
اپنی ہیبت سے سرِ دشت وغا پاٹ دیا 
یہ خبر چھپ گئی تاریخ كے اخباروں میں 
دو کٹے ھاتھوں نے بیعت کا گلا کاٹ دیا 

----------------------------
جب سے عباسؑ نے شمشیر سے خط کھینچا ہے 
سارے اِس پار ہیں اب کوئی بھی اُس پار نہیں 
ساری دنیا میں نظر آئیں گے تم کو لیکن 
ایک دوزخ ہے جہاں شہہؑ كے عزادار نہیں 

--------------------------------- 
میری نیندوں سے وفاؤں کی مہک آنے لگی ہے 
میں نے کل خواب میں غازی کا علم دیکھا ہے 

---------------------------------

حیدرؑ جلی لگے ہے تو غازیؑ ولی لگے 
اُس ایک کی بھی ایک ہی صورت نہیں رہی 
عباسؑ میں علیؑ کو علیؑ ہی دکھائی دے 
حیدرؑ کو آئینے کی ضرورت نہیں رہی 

اپنے پرچم كے اِس پھریرے میں 
اِس نے سارا جہاں سمیٹا ہے 
اس کی مدحت کسی سے کیسے ہو 
جو محمدؐ کی ماںؑ کا بیٹا ہے

---------------------------------------
بَیاض ہو كے جب میرے جذبات آ گئے 
کچھ آشنا سے نام میرے پاس آ گئے 
مانگی مدد جو دے كے سكینہؑ کا واسطہ 
پہلے علیؑ سے حضرت عباسؑ آ گئے

--------------------------------------

جلالِ حیدرِ کرّار كے عكّاس بیٹھے ہیں 
جنہیں کہتے ہیں سب اہلِِ حرام کی آس کہتے ہیں 

منافق ڈر كے مارے فرشِ محفل پر نہیں آتا 
اسے معلوم ہے اِس فرش پر عباسؑ بیٹھے ہیں 
-------------------------------------